خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کرکے 45 ہزار کردی۔
پاسپورٹ بل پر سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے طلال چودھری کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹس کا معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے، بلیو پاسپورٹس کی تعداد براہ راست پاکستان کی عالمی پاسپورٹ رینکنگ پر اثر انداز ہوتی ہے، اسی لیے ان کی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان میں 75 ہزار بلیو پاسپورٹس تھے، جن کی تعداد کم کرکے 45 ہزار کردی گئی ہے، بلیو پاسپورٹس کا معاملہ صرف دستاویزات کے اجرا تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق پاکستان کی عالمی پاسپورٹ رینکنگ سے بھی ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ جب پاکستان دوسرے ممالک کے ساتھ ویزا فری انٹری کی سہولت کے حوالے سے بات کرتا ہے تو متعلقہ ممالک کی جانب سے بلیو پاسپورٹس کی تعداد کے بارے میں بھی سوال کیا جاتا ہے۔
طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بتایا جاتا ہے کہ ملک میں 75 ہزار بلیو پاسپورٹس موجود ہیں، اسی لیے اس تعداد کو پہلے ہی کم کیا جاچکا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ سابق ارکان پارلیمنٹ کو بلیو پاسپورٹس جاری کرنے کے مخالف ہیں اور اگر سرکاری افسران کے بچوں کو بھی یہ پاسپورٹس جاری کیے جا رہے ہیں تو اس عمل کو روکنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلیو پاسپورٹس کے اجرا اور ان کی تعداد کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عالمی حیثیت اور رینکنگ سے متعلق ہے۔