فیصل آباد: انڈر پاس میں ڈوبے3 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں

فیصل آباد: انڈر پاس میں ڈوبے3 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں
شعبد اللہ پور انڈر پاس کی تعمیر جاری تھی کہ واسا کے انجنیئرز نے زیر زمین پائپ لائن بچھانے کی کوشش کی جس سے نہر کے دونوں اطراف بڑے شگاف پڑ گئے اور پانی انڈر پاس میں داخل ہو گیا۔ شگاف بروقت پر نہ کئے جانے کی وجہ سے پانی بڑھتا گیا اور عینی شاہدین کے مطابق چار افراد پانی میں بہہ گئے۔ ریسکیو اداروں نے 3 افراد کی لاشیں نکل لی ہیں اور ایک کی تلاش جاری ہے۔ فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پنجاب حکومت نے منصوبے کوتین ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا اور یکم نومبر کو تعمیر کا کام شروع ہوا۔ منصوبے کی تکمیل کے لئے پہلے یکم فروری پھر دس فروری اور بعد میں 17 فروری کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی۔ اب تک منصو بے پر صرف 70 فیصد کام ہی ہو سکا تھا اور آج مدت معیاد میں مزید ایک ماہ کا اضافہ کیا جانا تھا کہ انڈر پاس ٹوٹنے کا بہانہ مل گیا۔ منصوبہ پر لاگت کا تخمینہ پہلے 90 کروڑ اور اب ایک ارب دس کروڑ لگایا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب نے حالیہ دورہ فیصل آباد میں اسے مدت سے پہلے مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر مقررو قت پر بھی انڈر پاس نہ بن سکا۔