خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) لاہور پریس کلب کے الیکشن 2026 کے نتائج سامنے آگئے، ارشد انصاری ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہوگئے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے نئے عہدیداروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
لاہور پریس کلب الیکشن 2026 کے نتائج کے مطابق ارشد انصاری ایک بار پھر صدر منتخب ہو گئے ہیں، دیگر عہدوں پر جنرل سیکرٹری افضال طالب، سینئر نائب صدر سلمان قریشی، نائب صدور ناصرہ عتیق اور مدیحہ الماس، خزانچی سالک نواز جبکہ جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ منتخب ہوئے۔
گورننگ باڈی کے انتخابات میں سید سجاد کاظمی 936 ووٹ لے کر سر فہرست رہے، جبکہ خواجہ سرمد فرخ 806 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، الفت حسین مغل 770 ووٹ لے کر تیسرے اور اسد محمود گڈو 765 ووٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔

ایم احمد رضا، سید بدر سعید، کامران خان، راجہ عظمت اور ظہیر شیخ بھی کامیاب امیدواروں میں شامل ہیں، اقلیتی نشست پر آشر جان 860 ووٹ لے کر منتخب ہوئے، اس بار الیکشن میں مسترد ووٹوں کی تعداد 579 رہی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور پریس کلب کے نومنتخب صدر ارشد انصاری و دیگر عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ امید ہے لاہور پریس کلب اپنی شاندار صحافتی روایات کا تسلسل برقرار رکھے گا، پنجاب کے عوام کی خدمت کے مشن میں میڈیا کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں، حکومت پنجاب صحافی بھائیوں کو اپنے گھر کی تعمیر میں بھرپور معاونت کرے گی۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بھی لاہور پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ الیکشن میں دو صحافی خواتین کا اتنی بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرنا یقینا خوش آئند بات ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاہور پریس کلب کا ملکی سیاست میں ایک تاریخی رول ہے، اسی پریس کلب سے کئی اہم لیڈاران نے اپنی سیاست کا آغاز کیا، امید ہے ارشد انصاری اور ان کا گروپ صحافیوں کی خدمت کےلیے بڑھ چڑھ فرائض ادا کریں گے۔
انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد کامیاب امیدواروں کے حامیوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کیا گیا اور نو منتخب عہدیداران نے صحافی برادری کے مسائل کے حل اور پریس کلب کے کردار کو مزید فعال بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور صحافی برادری کو اپنی چھت دلانے کے وعدے پورے کرنے کا یقین دلایا۔
لاہور پریس کلب کے الیکشن کی خاصیت یہ ہے کہ اس دن کئی پرانے دوست ملتے ہیں، دن بھر چائے چلتی ہے، سوپ ملتا ہے، کھانے کے لنگر بانٹے جاتے ہیں، حریف ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور ہار جیت کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے دوسرے روز پھر ایک میز پر بیٹھے حالات حاضرہ پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں۔