خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) ماضی میں زائرین کے سعودی عرب آنے کے لیے بنائے گئے راستے پختہ تھے نہ اُن پر سفر سے متعلق واضح نشانات موجود تھے، ان خامیوں کی وجہ سے مسافروں کو آسمان پر بہت انحصار کرنا پڑتا تھا جس کی وسعتوں میں بجا بکھرے ہوئے ستارے اُن کے لیے راہنمائی کا کام کرتے تھے۔
دل میں عمرہ، حج اور شعائراللہ دیکھنے کی تمنا رکھ کر عازمِ سفر ہونے والے مسافر، ستاروں کی پوزیشن اور حرکت کو دیکھ کر اپنی منزلِ مقصود پر جانے کی درست راہوں کا انتخاب کرتے تھے۔
پوری تاریخِ انسانیت میں ستاروں کو سفری راستوں کی رہنمائی کرنے والے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
زمین ہو یا سمندر، ستاروں کی رہنمائی میں ہی مسافر اپنی سمتوں کو درست کرتے یا اُن کا تعین کیا کرتے تھے تاکہ بھٹکے بغیر منزلِ مقصود پر پہنچ سکیں۔ عام طور پر ستاروں کی پوزیشن اور سیاروں کی حرکت، ٹھیک راستے کے انتخاب میں بہت معاون ہوتی تھی، سورج اور چاند کی پوزیشن اور رفتار و حرکت کو بھی اِس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
یوں مسافر، اپنے سفر کا بہتر انتظام کر سکنے کے قابل ہو جاتے اور منصوبہ بندی کے ذریعے سفر کا آغاز کرتے، اِس حقیقیت کے باوجود کہ اُس زمانے میں جدید دور میں دستیاب راہ نمائی کرنے والے آلات و اوزار نہیں تھے، عہدِ رفتہ کے مسافر اپنے سفر اور منزل کا انتخاب درست طریقے سے کر لیتے تھے۔
ستاروں کی مدد سے پرانے زمانے میں شجر کاری اور کاشت کاری کے سیزن کے اوقات کا تعین بھی کیا جاتا تھا، اِن اجرامِ فلکی کی مدد سے موسموں میں متوقع تبدیلیوں اور سردی اور گرمی کے ایام کا بھی پتہ چلا لیا جاتا تھا، اس کام کے لیے سیاروں اور ستاروں کے طلوع و غروب ہونے کے اوقات سے بالخصوص سال بھر مدد لی جاتی تھی۔
آج بھی فلکی سیاحت اور ستارہ بینوں کے لیے اِس کی پرانی حیثیت قائم ہے۔ اِس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانوں اور آسمان کے مابین زمانوں سے چلا آنے والے یہ رشتہ اب تک قائم ہے۔