سرکاری سکولوں میں سہولیات مزید تنزلی کا شکار، ہوشربا اعداد و شمار منظر عام پر

سرکاری سکولوں میں سہولیات مزید تنزلی کا شکار، ہوشربا اعداد و شمار منظر عام پر

دستاویز کے مطابق 35 فیصد سرکاری سکول تاحال بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، صرف 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت میسر ہے۔

سکولوں میں بجلی کی سہولت میں گزشتہ سال کی نسبت 2 فیصد گراوٹ ہوئی، بلوچستان میں 21، سندھ میں 32 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت میسر ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی سہولت بھی انتہائی کم ہے، ملک کے 23 فیصد سرکاری سکول بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہے، بیت الخلا کی سہولت کے اعداد و شمار میں گزشتہ سال کی نسبت ایک فیصد کمی ہوئی۔

دستاویز کے مطابق بلوچستان کے سرکاری سکولوں میں بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، بلوچستان کے صرف 0.3 فیصد سرکاری سکولوں میں بیت الخلا موجود ہیں۔

اقتصادی سروے کے مطابق سرکاری سکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت میں بہتری نہ آسکی، سرکاری سکولوں میں پینے کے پانی کی سہولت 76 فیصد پر برقرار ہے، ملک کے 24 فیصد سرکاری سکول تاحال پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔

دستاویز کے مطابق سرکاری سکولوں میں چاردیواری کی سہولت مزید ابتری کا شکار ہوگئی، 25 فیصد سرکاری سکولوں میں چاردیواری کی سہولت موجود نہیں، سرکاری سکولوں میں چاردیواری کی سہولت میں گزشتہ سال کی نسبت 4 فیصد گراوٹ ہوئی۔

اقتصادی سروے کے مطابق موجودہ مالی سال میں 75 فیصد سرکاری سکولوں کی چاردیواری موجود ہے، گزشتہ مالی سال میں 79 فیصد سرکاری سکولوں میں چاردیواری کی سہولت تھی۔