تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں مضمون
  • بریکنگ :- دہشتگردی کےخلاف جنگ اپنی بقا کے لیےلڑے ،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بہترین فوج اورانٹیلی جنس آلات سےدہشتگردی کو شکست دی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- افغان حکومتیں اپنے شہریوں کی نظروں میں مقام پیدا نہ کرسکیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- یہی وجہ تھی کوئی بھی ناکام افغان حکومت کیلئےلڑنےکوتیارنہیں تھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کیا افغان فورسزکےہتھیارڈالنےپرپاکستان کوموردالزام ٹھہرایاجاسکتا ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حقیقت تسلیم کرنےکےبجائےافغان اورمغربی حکومتوں نے پاکستان پر الزام لگایا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پاکستان پرالزام لگانےکیلئےبھارت سےمل کرجعلی خبریں چلاتے رہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- الزامات کےباوجود پاکستان نے سرحد کی مشترکہ نگرانی کی پیشکش کی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- محدود وسائل کےباوجودافغان سرحد پرباڑلگائی،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- الزام تراشی ترک کرکےافغانستان کےمستقبل کی جانب دیکھناچاہیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن کیلئےنئی حکومت کےساتھ تعاون کیاجائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- درست اقدام کےباعث دہشتگردی سے پاک افغانستان کاحصول ممکن ہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ماضی کی غلطیوں کودہرایا تو تمام فریق متاثرہوں گے،وزیراعظم

فیس بک اور گوگل پر جعلی اشتہارات شکایت کے باوجود برقرار

Published On 29 April,2021 03:48 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) فیس بک اور گوگل دھوکہ دہی کے واقعات کے باوجود جعلی مالیاتی سکیموں کے اشتہارات ہٹانے میں ناکام ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی کنزیومر واچ ڈاگ "وِچ"کے حالیہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیس بک اور گوگل سے متاثر ہ افراد نے شکایات کیں اس کے باوجود دھوکہ دہی پر مشتمل اشتہارات جوں کے توں موجود ہیں۔ رپورٹ کردہ اعدادوشمار کے مطابق گوگل 34 فیصد اور فیس بک 26 فیصد جعلی اشتہارات ہٹانے میں ناکام رہا۔

مذکورہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی پر مشتمل اشتہارات ہٹا دیئے گئے ہیں تاہم سروے میں شامل 15 فیصد افراد جعلی اشتہارات سے متاثر ہوئے اور انہیں رپورٹ بھی کیا۔ ان میں سے 27 فیصد اشتہارات فیس بک اور 19 فیصد گوگل پر تھے جبکہ 43 فیصد افراد نے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکہ دہی پر مشتمل واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گوگل پر رپورٹنگ کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ہے۔