پائلٹ کا روپ دھار کر سینکڑوں مرتبہ مفت سفر کرنے والا شخص گرفتار

پائلٹ کا روپ دھار کر سینکڑوں مرتبہ مفت سفر کرنے والا شخص گرفتار

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹورنٹو سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ ڈلاس پوکورنک کو ہوائی کی وفاقی عدالت میں آن لائن دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد پاناما سے گرفتار کیا گیا۔

ملزم ڈلاس پوکورنک کو حال ہی میں امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے جہاں عدالت میں پیشی کے دوران اس نے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے، ڈلاس پوکورنک سنہ 2017 سے 2019 تک ٹورنٹو کی ایک ایئر لائن میں فلائٹ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

ڈلاس نے ملازمت چھوڑنے کے بعد اسی ایئر لائن کے جعلی ایمپلائی آئی ڈی کارڈز استعمال کیے تاکہ دیگر تین ایئر لائنز میں پائلٹوں اور فضائی عملے کے لیے مختص مفت ٹکٹ حاصل کر سکیں۔

ڈلاس پوکورنک کے خلاف سامنے آنے والے الزامات ہالی وُڈ فلم ’کیچ می اِف یو کین‘ کی یاد دلاتے ہیأ جس میں ہالی وڈ سٹار لیونارڈو ڈی کیپریو نے فرینک ایبگنیل کا کردار نبھایا تھا، اس فلم میں بھی مرکزی کردار ایک پائلٹ کا روپ دھار کر ایئر لائنز کے ساتھ دھوکہ دہی اور مفت پروازیں حاصل کرتا دکھایا گیا تھا۔

امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈلاس پوکورنک اس حد تک نڈر تھے کہ انہوں نے متعدد بار کاک پٹ میں موجود اس اضافی نشست یعنی جمپ سیٹ پر بیٹھنے کی بھی درخواست کی جو عام طور پر ڈیوٹی سے فارغ پائلٹوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ کبھی واقعی کسی جہاز کے کاک پٹ میں بیٹھ کر سفر کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔

ملزم پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ان ایئر لائنز کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جنہیں دھوکہ دیا گیا البتہ ان کچھ مقامات کا ذکر کیا گیا ہے جو ہونولولو، شکاگو اور فورٹ ورتھ میں واقع ہیں، ان شہروں سے پروازیں چلانے والی ہوائی ایئر لائنز، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور امریکن ایئر لائنز کے ترجمانوں نے فی الحال اس معاملے پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا۔

اسی طرح ٹورنٹو میں قائم ایئر کینیڈا کی جانب سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، امریکی مجسٹریٹ جج نے ڈلاس پوکورنک کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا جبکہ ان کے وکیل نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فضائی سفر کی سکیورٹی پر پہلے ہی بحث جاری ہے، 2023 میں ہوزائن ایئر کی ایک پرواز کے کاک پٹ میں موجود ایک آف ڈیوٹی پائلٹ جوزف ایمرسن نے دورانِ پرواز انجن بند کرنے کی کوشش کی تھی۔