تازہ ترین
  • بریکنگ :- ہمیں عدلیہ پراعتماد ہے وہ ظلم نہیں ہونےدے گی،عمران خان
  • بریکنگ :- اگریہ کامیاب ہوگئےتوپاکستان کوکسی دشمن کی ضرورت نہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- یہ نیب ترامیم سےپاکستان کی تباہی کرنے جارہے ہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- انہوں نے نیب ترامیم میں بڑےڈاکوؤں کوچھوٹ دےدی،عمران خان
  • بریکنگ :- نیب ترامیم کےبعد صرف چھوٹے چورپکڑےجائیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- انہوں نےاپنی چوری بچانےکیلئےاحتساب کےنظام کی قبرکھودی،عمران خان
  • بریکنگ :- چوری کےپیسےسےپراپرٹی خریدنےوالےکوکوئی پوچھ نہیں سکےگا،عمران خان
  • بریکنگ :- شہبازشریف کی 16ارب کی چوری پکڑی گئی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ان کی بیرون ملک پراپرٹی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہرسال 1700ارب غریب ممالک سےآف شورکمپنیوں میں جاتاہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ان پیسوں کےذریعےخریدےگئےفلیٹس میں نوازشریف رہتا ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- لندن کمپنی کی مالکہ مریم نوازہیں،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:لندن میں 4 مہنگےفلیٹس خریدے گئے،عمران خان
  • بریکنگ :- نیب ترامیم کےبعد ان فلیٹس کا پوچھانہیں جائےگا،عمران خان
  • بریکنگ :- ترامیم کے بعد نیب کو الزام ثابت کرناپڑےگا،عمران خان
  • بریکنگ :- نئےقانون کےبعد وائٹ کالرکرائم کوپکڑنا ناممکن ہوجائے گا،عمران خان
  • بریکنگ :- نیب ترامیم کوآج سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ملکی نظام پہلےہی ایساہےان لوگوں کوپکڑنااورسزادینامشکل ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ملک کی تباہی چھوٹےنہیں،بڑےچوروں کی وجہ سےہوتی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- انہوں نےخودکوبچانےکیلئےچوری کےدروازےکھول دیئےہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:اب کسی طاقتورکو پکڑا نہیں جاسکتا،عمران خان
  • بریکنگ :- یہ ملک میں 30 سال سے چوری کررہے تھے،عمران خان
  • بریکنگ :- انہوں نے پہلے این آراو ون لیا اب این آراو ٹو لےلیا،عمران خان
  • بریکنگ :- ایک طرف غریب پرٹیکس،دوسری طرف لوٹنےوالوں کا 1100ارب معاف کردیا،عمران خان
  • بریکنگ :- 1100 ارب قوم کاپیسہ تھا انہوں نےاپنےآپ کوچھوٹ دی،عمران خان
  • بریکنگ :- ساری قوم سےاپیل ہے یہ احتجاج کرنےکا وقت ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- عمران خان کاآئندہ ہفتےپریڈگراؤنڈ اسلام آباد میں جلسےکااعلان

کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، اقوام متحدہ کی بھارت پر تنقید

Last Updated On 09 July,2019 03:51 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے کشمير کی صورتحال ميں بہتری نہ آنے پر انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزيوں کی بين الاقوامی سطح پر تحقيقات پر بھی زور ديا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق کشمير ميں صورتحال بہتر نہ ہونے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق محکمے نے بھارت پر تنقيد کی ہے۔ رپورٹ ميں کشمير کی صورتحال پر ايک سال قبل جاری کی جانے والی اپنی نوعيت کی اولين رپورٹ ميں بيان کردہ تحفظات اور مسائل کے حل کے ليے اقدامات نہ کرنے پر نئی دہلی سرکار کو تنقيد کا نشانہ بنايا گيا۔

اقوام متحدہ کے ہيومن رائٹس کمشنر کی جانب سے 2018 ميں پہلی مرتبہ کشمير ميں انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزيوں اور وہاں کی صورتحال پر رپورٹ جاری کی گئی تھی۔ رپورٹ ميں بالخصوص بھارت کو تنقيد کا نشانہ بنايا گيا تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ايسی دوسری رپورٹ کا بھی اجراء ہوا جس ميں بھارتی دستوں کو کشمير ميں مبينہ جرائم اور زيادتيوں کے خلاف کارروائی سے استثنٰی کی سی صورتحال کی مذمت کی گئی ہے۔ فوجی دستوں کی جانب سے کی گئی خلاف ورزيوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

انسانی حقوق کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ ايک ماہ قبل دونوں ممالک کو فراہم کر دی گئی تھی۔ پاکستان نے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی اس رپورٹ کا خير مقدم کيا جبکہ نئی دہلی حکومت نے پہلے تو رپورٹ کا اجراء روکنے کے ليے درخواست دی اور پھر اس عمل ميں ناکامی پر رپورٹ ميں شامل معلومات کو جعلی قرار ديا اور يہ بھی کہا کہ رپورٹ کو سياسی مقاصد کے ليے استعمال کيا جا رہا ہے۔ بھارت نے پچھلے سال کی رپورٹ پر بھی يہی موقف اختيار کيا تھا۔

رپورٹ ميں اقوام متحدہ کی ہيومن رائٹس کونسل سے مطالبہ کيا گيا ہے کہ مقبوضہ کشمير ميں انسانی حقوق کی مبينہ خلاف ورزيوں کے معاملے کی تفصيلی اور آزادانہ تحقيقات کرائی جائيں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ پر پاکستان کا خیر مقدم

پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے، دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر کمیشن آف انکوائری کے قیام کی سفارشات کا خیر مقدم کرتے ہیں، رپورٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتحقیقاتی کمیشن کی سفارش کی گئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز اورطاقت کے استعمال کو بے نقاب کیا گیا، رپورٹ میں نام نہاد تلاشی ومحاصرہ آپریشنزمیں ماورائےعدالت قتل کو سامنےلایا گیا، مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی صورتحال کا آزادکشمیر سےموازنہ نہیں کیاجاسکتا، مقبوضہ کشمیر فوج کے زیرانتظام علاقہ جبکہ آزاد کشمیر دنیا بھر کے لیے کھلا ہے۔