تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:شیریں مزاری کی گرفتاری کیخلاف کیس کی سماعت
  • بریکنگ :- کمیشن کی تشکیل کیلئےوقت دیاجائے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل
  • بریکنگ :- عدالتی احکامات پنجاب کی اتھارٹیزکوبھی بھجوائےگئےہیں،فیصل چودھری
  • بریکنگ :- پہلےیہ کام نہیں کرتےپھراپوزیشن میں آکرکیس عدالت لےآتےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- اس طرح کی باتوں سےجمہوریت غیرفعال ہوجاتی ہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- تمام ادارےکام کریں توایسی درخواستیں عدالتوں میں نہ آئیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- سیاسی لڑائیوں میں یہ بھول جاتےہیں کہ عوام کوجوابدہ ہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتیں آپس میں بیٹھ کربات نہیں کریں گی توعدالت کیاکرے؟چیف جسٹس
  • بریکنگ :- یہ حکومت کاکام ہے،یہ بھی سوشل میڈیاپرطعنےہی دیتےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- عدالت فیصلہ دیتی ہےمگراس پرعملدرآمدنہیں کیاجاتا،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- سب نےملکراپناآئینی کرداراداکرناہے،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

کورونا وائرس امریکی بیڑے پر پھیلنے لگا، 4 ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ

Last Updated On 01 April,2020 07:47 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) امریکا میں کورونا وائرس کی تعداد تیزی سے پھیل رہی ہے اور متاثرہ افراد میں امریکا سب سے آگے چلے گیا ہے، 4 ہزار سے زائد افراد چل بسے ہیں جبکہ 1 لاکھ 89 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، اسی مہلک وباء کے حوالے سے امریکا کے بحری بیڑے 'روزویلٹ' کے کپتان نے محکمۂ دفاع پینٹاگون کو لکھے گئے خط میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے اس لیے فوری طور پر مدد کی جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے امریکی علاقے گوام میں بیڑا موجود ہے۔ کورونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی اخبار سان فرانسسکو کرونیکل نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئر کا کہنا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کورونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔ اہلکاروں کی بیڑے پر موجودگی بہت بڑا خطرہ ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے سی بی ایس ایوننگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تاثر کی نفی کی کہ وہ بحری بیڑے سے سیلرز کو کسی دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ فی الحال اس نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طبی امداد اور دیگر ضروری اشیا روزویلٹ کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں اور سیلرز کی دیکھ بھال کے لیے اضافی طبی عملہ بھی بھجوایا جا رہا ہے۔

مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ بحری بیڑے پر موجود کسی بھی سیلر کی جان خطرے میں نہیں ہے۔ بحریہ وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیسٹ کٹس بھجوا دی گئی ہیں۔

 کرونیکل  نے بحری بیڑے کے کپتان کے خط کی اشاعت کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ روزویلٹ پر موجود 100 سے زائد سیلرز کرونا وائرس کے شکار ہو چکے ہیں۔ تاہم امریکی بحریہ نے خط کے متن کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے۔

اس خط سے متعلق نیویارک ٹائمز بھی خبر شائع کر چکا ہے۔

بحریہ کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک بیان میں کہا ہے کہ بحری بیڑے کے کپتان کروزیئر نے اپنے خط میں بیڑے پر مسائل اور خدشات سے خبردار کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیوی کی قیادت بیڑے کے عملے کی صحت اور تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور کمانڈر افسر نے جن تحفظات کا ذکر کیا ہے اسے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔