تازہ ترین
  • بریکنگ :- ایم کیو ایم پاکستان کا کل یوم سیاہ منانے کا اعلان
  • بریکنگ :- ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں ورنہ شہرکےدروازےبندکردیں گے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- وزیراعظم آئی جی اورڈی آئی جی کومعطل کریں،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کو فوری کراچی آنا چاہیے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی نے ہمیں دوبارہ للکارا ہے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ڈاکو کراچی پر مسلط ہیں،رہنما ایم کیو ایم خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ایم پی اےصداقت حسین پرتشددکاحساب لیا جائے گا،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہماری ماؤں،بہنوں پرڈنڈے برسائے گئے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہم پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہم جمہوریت کوواحد راستہ سمجھتےہیں،خالدمقبول صدیقی

مقبوضہ کشمیر کا ایک اور سپوت جنید صحرائی ساتھی سمیت آزادی کی راہ پر قربان

Last Updated On 19 May,2020 06:30 pm

سرینگر: (دنیا نیوز) مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی درندگی کی ایک اور مثال سامنے آ گئی، سرینگر میں قابض فورسز نے سرچ آپریشن کی آڑ میں دو مکانوں کو دھماکے سے اڑا دیا، واقعے میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اشرف صحرائی کا بیٹا جنید صحرائی ساتھی سمیت شہید ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کا ایک اور سپوت جنید صحرائی آزادی کی راہ پر قربان ہوگیا۔ حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما اشرف صحرائی کے صاحبزادے جنید صحرائی ساتھی سمیت سرینگر میں قابض فورسز کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوگئے۔ بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کی آڑ میں دو مکانات بھی دھماکہ سے اڑا دیے۔

2018 میں یونیورسٹی آف کشمیر سے ایم بی اے کی ڈگری لینے کے بعد بھارتی افواج کے ظلم وستم سے تنگ آکر جنید صحرائی نے ہتھیار اٹھانے کا فیصلہ کیا تو ان کے والد نے اس وقت ہی کہا تھا کہ ان کا بیٹا ظلم کو برداشت نہیں کر پایا اس لیے ہتھیار اٹھا لیا۔

جنید صحرائی کی شہادت پر حریت کانفرنس سے احتجاج کی کال دی تو سرینگر میں کرفیو لگا دیا گیا۔ موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئیں۔

جنید صحرائی کی شہادت کی خبر سن کر سرینگر کے باسی تمام بندشیں توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور آزادے کے نعرے بلند کرتے رہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے قابض افواج نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور آنسو گیس کے شیلز کی برسات کر دی جس سے متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔