تازہ ترین
  • بریکنگ :- چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
  • بریکنگ :- منی بجٹ تیارہوچکاہے، حکومت کہےگی توپیش کردیں گے،چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جارہی ہے ، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- لگژری اشیا کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس کی سفارش ہے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- کھانے پینے کی اشیا اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقراررہےگی، چیئرمین ایف بی آر

جو بائیڈن کے تعلقات اور امداد بحالی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں: فلسطین

Published On 28 January,2021 05:51 pm

غزہ: (ویب ڈیسک) فلسطینی رہنماؤں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے فلسطینی حکومت کے ساتھ تعلقات اور امداد بحالی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکا کے قائم مقام سفیر رچرڈ ملز نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ مکمل طور پر سفارتی تعلقات کی بحالی اور اقتصادی اور انسانی امداد کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے روکا تھا۔

فلسطینی حکومت کے ترجمان ابراہیم ملحم کا کہنا ہے کہ ’صدر محمود عباس اور وزیراعظم اشتية نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں دو ریاستی حل کے لیے امریکی حمایت اور اسرائیل اور فلسطین کے مابین مذاکرات کی طرف واپسی کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت مذاکرات کی بحالی کی خواہاں ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی اور ان بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں، جو اسرائیلی قبضے کا خاتمے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر جو بائیڈن نے فلسطین سے متعلق دو ریاستی حل کی حمایت کر دی

ابراہیم ملحم نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عالمی فریقوں کی مدد سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم کوئی بھی ایسا حل جس میں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے معاہدوں کے مطابق فلسطینی حقوق شامل نہیں ہوں گے، وہ ناکام ہوگا۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سینیئر ممبر واصل ابو یوسف کا کہنا ہے فلسطینی سمجھتے ہیں کہ بائیڈن انتطامیہ نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو ختم کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے، جبکہ وہ اسرائیل کے لیے جاری غیر متزلزل حمایت کے بارے میں بھی آگاہ ہے۔

فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ انتطامیہ کی پالیسیوں کو مسترد کرنے کے بعد، جو وہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی لوگوں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتی اور پچھلے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے، ٹرمپ نے فلسطینی اتھارٹی کی 200 ملین ڈالر اور ساڑھے تین سو ملین ڈالر سے زائد کی انسانی امداد روک دی تھی۔