تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاک آرمی کی چولستان کےدورافتادہ علاقوں میں مفت طبی سہولتیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- منصوبےکوعملی جامہ پہنانے کیلئے پاک آرمی کی خصوصی ٹیمیں تشکیل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ضلعی انتظامیہ کےساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئےسرگرم ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 2021 میں چنن پیر،کھتری بنگلہ،دین گڑھ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کاانعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- چاہ ناگراں،چاہ ملکانہ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاجاچکاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کالاپہاڑ،احمدپورشرقیہ، منچن آباد اور چشتیاں میں فری میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- 12 ہزارافراد کوفری طبی سہولیات مہیا کی جا چکی ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تحصیل اسپتال فورٹ عباس میں فری میڈیکل کیمپ 12سے 17 اکتوبرتک جاری ہے
  • بریکنگ :- 15 اکتوبر 2021کوکورکمانڈر بہاولپورنےآئی کیمپ کا دورہ کیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈربہاولپورنےکیمپوں میں دی گئی سہولتوں کاجائزہ لیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈرنےہدایت کی کہ زیادہ ترمریضوں کوطبی سہولتیں دی جائیں،آئی ایس پی آر

کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے نہیں پھیلا، عالمی ادارہ صحت

Published On 09 February,2021 09:37 pm

بیجنگ: (دنیا نیوز) چین کے لئے بڑا ریلیف ، عالمی ادارہ صحت نے ووہان کی لیبارٹری سے کورونا وائرس پھیلنے کے مفروضوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وائرس ووہان سے ہی پھیلا ہے۔

تفصیل کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے تمام قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے نہیں پھیلا۔ چین میں ایک ماہ کی تحقیقات کے بعد ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے کہا کہ وائرس کے ووہان کی لیبارٹری سے لیک ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

ٹیم نے مزید کہا کہ اس مفروضے کی مزید جانچ کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کے سربراہ پیٹربین ایمباریک کا کہنا تھا کہ چین میں دسمبر دو ہزار انیس سے قبل کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے شواہد نہیں ملے۔ کورونا وائرس کے منجمد اشیائے خورونوش کے ذریعہ منتقل ہونے کا امکان ضرور موجود ہے۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ وائرس کے چمگادڑ سے انسانوں میں منتقل ہونے کا امکان موجود ہے، مگر یہ انتقال ووہان کے علاوہ کہیں اور سے ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وائرس کا منبع تلاش کرنے میں کئی سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے وائرولوجسٹ کے ہمراہ آزاد ماہرین کی ٹیم چین میں تحقیقات کے لئے بھیجی ہے۔