تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:شیریں مزاری گرفتاری کیس،سماعت 25مئی تک ملتوی
  • بریکنگ :- اسلام آبادہائیکورٹ کامعاملےکی جوڈیشل انکوائری کاحکم
  • بریکنگ :- عدالت کاوفاقی حکومت کوٹی اوآرزبناکرعدالت میں پیش کرنےکاحکم
  • بریکنگ :- آئی جی اسلام آبادشیریں مزاری کوسیکیورٹی فراہم کریں،عدالت
  • بریکنگ :- اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم پرشیریں مزاری کورہا کردیاگیا
  • بریکنگ :- شیریں مزاری کاموبائل فون ودیگرچیزیں انہیں واپس کردی گئیں

لداخ میں چین سے بات چیت ہوسکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں: فاروق عبد اللہ

Published On 22 February,2021 05:44 pm

سرینگر: (ویب ڈیسک) مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبد اللہ بھی پاکستان سے بات چیت کے متمنی نکلے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی کو واجپائی کی "دوست بدل سکتے ہیں ہمسایہ نہیں"والی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح لداخ سے فوج کو ہٹایا گیا مقبوضہ کشمیر سے بھی فوج ہٹانے کی ضرورت ہے۔ لداخ میں چین سے بات چیت ہوسکتی ہے تو پاکستان سے کیوں نہیں۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فاروق عبد اللہ کا کہنا تھا کہ نہ ہم نے 5 اگست 2019 والا فیصلہ قبول نہیں کیانہ حد بندی کمیشن قبول کریں گے۔ روایتی لباس فیرن کشمیریوں کی شناخت ہے اس پر پابندی کا مطالبہ افسوسناک ہے۔