تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

امریکی صدر نے غزہ پر حملوں کے معاملے پر اسرائیل کی حمایت کر دی

Published On 18 May,2021 09:44 am

واشنگٹن: (دنیا نیوز) غزہ پر حملوں کے معاملے پر امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل کے حامی نکلے، صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں کہا کہ راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے۔

دنیا کچھ بھی کہے ہم تمھارے ساتھ ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن کو فلسطین کے ہر گھر سے اٹھنے والے جنازے اور چیخ و پکار سنائی نہ دی۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کہا کہ اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے۔ وائٹ ہاوس کے مطابق امریکی صدر نے جنگ بندی پر بھی زور دیا ہے۔

وائٹ ہاوس سے جاری بیان میں صدر بائیڈن کے جنگ بندی پر اظہار خیال پر اسرائیلی وزیر اعظم کے جواب کے متعلق کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔
تاہم امریکی سینیٹرز نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں امریکی سینیٹ کے 28 اراکین نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

سینیٹرز نے کہا ہے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں مزید ہلاکتوں کی روک تھام کیلئے فوری جنگ بندی کی جائے۔ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت اور امریکی صدر کے بیان پر خاتون رکن کانگریس الہان عمر نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے سیز فائر کی حمایت میں تاخیر سے جانوں کا ضیاع ہوا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے حمایت کرنے پر امریکا، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا اور جرمنی سمیت 25 ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔