تازہ ترین
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان

ایران کو قابو میں رکھنے کیلئے فضائی حملے کیے: امریکی صدر جو بائیڈن

Published On 30 June,2021 04:55 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) امریکی صدر جوزف بائیڈن نے کانگریس کو بتایا کہ میں نے ایران کے طرف سے درپیش خطرات کو روکنے کے مقصد سے تہران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کا حکم دیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اس نے گزشتہ دنوں شام اورعراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر اس لیے فضائی حملے کیے تاکہ عسکریت پسند اور تہران امریکی شہریوں اور تنصیبات پر مزید حملے یا حملے کرنے میں مدد نہ کرسکے۔

دراصل اگر کوئی ملک اپنے دفاع میں کسی کے خلاف مسلح حملہ کرتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے دفعہ 51 تحت اس اقدام کے بارے میں 15 رکنی سلامتی کونسل کو فوراً آگاہ کرنا پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ ان حملوں میں ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن کا عسکریت پسند عراق میں امریکی اہلکاورں اور تنصیبات کے خلاف ڈرون اور راکٹ حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے سلامتی کونسل کو ارسال کردہ خط میں کہا کہ یہ فوجی کارروائی مذکورہ خطرے کو ناکام بنانے کے لیے تمام غیر فوجی متبادل ناکام ہوجانے کے بعد کی گئی۔ اس کا مقصد صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانا اور مزید حملوں کو روکنا تھا۔

جو بائیڈن نے بھی شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مزید خطرات یا حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اگر ضرورت محسوس کی گئی اور مناسب سمجھا گیا تو امریکا مزید کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔


صدر جو بائیڈن نے کانگریس کو ارسال کردہ ایک خط میں لکھا کہ انہوں نے شام اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر27 جون کو بمباری کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ایران کی طرف سے درپیش خطرات کو روکا جاسکے۔ان حملوں کا مقصد امریکی اہلکاروں کا دفاع اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا، امریکا اور اس کے اتحادیوں پر ہونے والے مسلسل حملوں کو روکنا اور ایران کو خطے میں امریکی مفادات پر حملوں سے باز رکھنا تھا۔

امریکی فضائی حملوں کے جواب میں شام سے امریکی فوج پر راکٹ حملے کیے گئے۔ امریکی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ حملوں کے دوران تقریباً 34 راکٹ فائر کیے گئے لیکن کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

جوبائیڈن نے امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی کے نام خط میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 4 اپریل، 18اپریل اور 3 مئی کو بلد فوجی اڈے پر،4 اپریل کو بغداد کے قریب سفارتی انکلیو اور 24 مئی کو عین الاسد ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کیے گئے۔ اس کے علاوہ 14 اپریل کو اربیل میں امریکی تنصیبات پر ڈرون سے حملہ کیا گیا جبکہ 8 مئی کو بشور ایئر بیس اور 10مئی کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا۔

امریکی صدر نے خط میں کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں سے امریکا اور اتحادی افواج کے اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کے بعض اراکین نے کانگریس سے باضابطہ منظوری کے بغیر ان فضائی حملوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے قبل صدر بائیڈن کو کانگریس سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔