ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھا دیاگیا

Published On 20 September,2023 12:15 pm

اوٹاوا: (دنیانیوز) برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھا دیا ہے۔

برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ خالد محمود، شیڈو وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی، سکھ اراکین پارلیمنٹ پریت کوراور تن منجیت سنگھ نے ہردیپ سنگھ کے قتل کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ خالد محمود کا کہنا ہے کہ بھارت کو خبردار کیا جائے کہ ریاستی دہشتگردی برداشت نہیں کی جائے گی۔

برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے کہا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل کے مجرموں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور تمام ممالک کو قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے، بھارت پر عائد کیے جانے والے سنگین الزمات سے متعلق کینیڈا سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ادھر کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت کو کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل الزامات کو سنجیدہ لینے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، سکھ رہنما کے قتل پر جواب چاہتے ہیں، بھارت کو اشتعال دلانے کی کوشش نہیں کررہے۔

کینیڈین سکھ اورمسلم کمیونٹی کا بھارت کیخلاف مزید اقدامات کا مطالبہ

دوسری جانب کینیڈا میں سکھ اور مسلم رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ  وہ ان کی برادریوں کے خلاف ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

عرب میڈیا کے مطابق سکھ اور مسلم رہنماؤں کا مطالبہ ا یسے موقع پر سامنے آیا ہے  جب کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کو ملوث قرار دیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق ورلڈ سکھ آرگنائزیشن آف کینیڈا کے بورڈ کے رکن مکبیر سنگھ نے نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز ایڈوکیسی گروپ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ رواں ہفتے ہونے والے انکشافات نے بہت سے کینیڈا میں رہنے والوں کو چونکا دیا ہو گا ، یہ انکشافات سکھ برادری کے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں تھی ، ان کی تنظیم کینیڈا میں سکھوں کے خلاف موجودہ دیگر خطرات سے آگاہ تھی، جن میں سے کچھ کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں :سکھ رہنما کے قتل پر کینیڈا کا سخت اقدام، اعلیٰ ترین بھارتی سفارتکار ملک بدر

یاد رہے کہ گذشتہ روز ہی وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ کینیڈا بھارتی حکومت کے ایجنٹوں اور برٹش کولمبیا میں سکھوں کی عبادت گاہ کے باہر 18 جون کو ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی تحقیقات کر رہا ہے۔

جس پر ردعمل میں بھارت نے فوری طور پر ان الزامات کو ”مضحکہ خیز“ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور ساتھ ہی کینیڈا پر سکھ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا۔

خیال رہے کہ آزاد خالصتان کے رہنما ہردیپ سنگھ کو 18 جون 2023 میں کینیڈا میں گوردوارے کے باہر قتل کردیا گیا تھا، کینیڈا نے ہردیپ سنگھ کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور کینیڈا میں بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کردیا ہے جس کے جواب میں بھارت نے بھی کینیڈا کے سینئر سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

 

Advertisement