ٹورنٹو: (ویب ڈیسک) کینیڈا میں ایک پائلٹ کو وینکوور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرواز سے پہلے جہاز سے اُتار دیا گیا کیونکہ وہ شراب کے نشے میں دُھت پایا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے کینیڈین پولیس کے حوالے سے بتایا کہ دو ٹیسٹ کرنے سے ثابت ہوا کہ پائلٹ ڈیوٹی کے لیے نااہل تھا، ٹرانسپورٹ کینیڈا نے اس معاملے کو سنگین قرار دیا اور ایئر انڈیا کو خط میں لکھا کہ اس پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایئر انڈیا اور انڈیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ مناسب اقدامات کیے جائیں، ایئر انڈیا نے وضاحت دی کہ وینکوور سے دہلی جانے والی پرواز 23 دسمبر کو اس واقعہ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی اور ایک متبادل پائلٹ کو لایا گیا۔
ایئرلائن نے کہا کہ پائلٹ کو تحقیقات کے دوران پرواز کی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ کمپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کرتی ہے، اگر خلاف ورزی ثابت ہوئی تو سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا سے کہا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات اور آئندہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات 26 جنوری تک فراہم کرے۔
یہ پرواز بوئنگ 777 پر تھی جو 344 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے، ایئر انڈیا پہلے ہی شدید جانچ پڑتال کی زد میں ہے، خاص طور پر جون میں بوئنگ ڈریم لائنر کے حادثے کے بعد، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انڈیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے ایئرلائن میں متعدد حفاظتی خامیوں کی نشان دہی کی ہے۔
حالیہ دنوں میں چار ایئر انڈیا پائلٹس کو انتباہی نوٹس بھیجے ہیں جن میں ریگولیٹری تعمیل اور فلائٹ کریو کے فیصلوں سے متعلق سنگین خدشات ظاہر کیے گئے، ادارے نے عملے کے لیے الکحل ٹیسٹنگ کے سخت قوانین تجویز کیے ہیں، جن میں تین مثبت ٹیسٹ کے بعد پائلٹ کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کرنے کی تجویز شامل ہے۔
موجودہ قوانین کے مطابق ہر سفر کے بعد انڈیا میں پہلے لینڈنگ پورٹ پر بریتھلائزر ٹیسٹ لازمی ہے، کینیڈین قوانین کے مطابق پائلٹ کسی بھی الکحل مشروب کے استعمال کے 12 گھنٹے کے اندر جہاز نہیں چلا سکتا اور خلاف ورزی پر جُرمانے یا عدالتی کارروائی ہو سکتی ہے۔



