تہران: (دنیا نیوز) ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کی شدت میں کمی آنے لگی، احتجاج کا دائرہ کار فارس، ہمدان اور دشت سمیت محض چند شہروں تک محدود ہوکر رہ گیا۔
سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات جائز قرار دے دیا اور کہا کہ ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا، کرنسی میں اتار چڑھاؤ کے پیچھے دشمن کا ہاتھ ہے، مہنگائی کے خلاف احتجاج جائز ہے، تشدد کی اجازت نہیں۔
دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عامر سعید نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو خط میں کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بیان اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کے خلاف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ ایرانی افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ایرانی عوام کو داخلی امور میں مداخلت برداشت نہیں ہے۔
اس قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین پر گولی چلائی تو ہم انھیں بچانے آئیں گے۔
اس کے علاوہ امریکا کے سابق سیکرٹری آف اسٹیٹ اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت مشکل میں ہے اور فوجی مداخلت ان کی آخری اُمید ہے، اسرائیلی ایجنسی موساد کے ایجنٹ ایرانی مظاہرین کے شانہ بہ شانہ سڑکوں پر ہیں، جنہیں وہ سال نو کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔



