سٹاک ہوم: (ویب ڈیسک) سویڈن نے شہریت کے حصول اور واپسی کے عمل کو مزید سخت بنانے کا اعلان کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سویڈن میں پناہ کی تلاش میں آنے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ سال کے دوران 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 1985 کے بعد اب تک کی کم ترین سطح ہے۔
رپورٹ میں بتایا کہ سویڈن کی موجودہ حکومت نے ستمبر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل قوانین کو مزید سخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، سویڈن کا حکومتی اتحاد جسے امیگریشن مخالف جماعت سویڈن ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے، 2022 میں برسرِاقتدار آنے کے بعد سے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کو اپنی کلیدی پالیسی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں گینگ وار اور جرائم کی لہر کی بنیادی وجہ گزشتہ سوشل ڈیموکریٹ حکومتوں کی نرم پالیسیاں اور تارکین وطن کے معاشرے میں انضمام کی ناکامی ہے، سویڈش وزیرامیگریشن جوہان فورسل کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اب سویڈن آنے والے لوگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔
مائیگریشن بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق یوکرین کے پناہ گزینوں کے علاوہ سویڈن آنے والے تارکین وطن کی کل تعداد 2024 میں 82 ہزار 857 تھی جو 2025 میں کم ہو کر 79 ہزار 684 رہ گئی ہے۔
ان اعداد و شمار میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کل تارکین وطن میں پناہ گزینوں اور ان کے خاندانوں کا حصہ صرف چھ فیصد رہا جبکہ 2018 میں یہ شرح 31 فیصد تھی، حکومت نے نہ صرف پناہ سے متعلق قوانین سخت کیے ہیں بلکہ ملک چھوڑنے والے افراد کے لیے مالی مراعات اور ملک بدری کے عمل کو بھی تیز کیا ہے۔
وزیر امیگریشن کے مطابق آئندہ برس شہریت کے حصول اور واپسی کے عمل کو مزید سخت بنایا جائے گا، دوسری جانب سویڈن کا ہمسایہ ملک ڈنمارک بھی اسی نقش قدم پر چل رہا ہے، ڈنمارک میں سال 2025 کے دوران پناہ کی درخواستوں کی منظوری تاریخی طور پر کم ترین سطح پر رہی جہاں نومبر کے آخر تک صرف 839 افراد کو پناہ دی گئی۔
ڈنمارک کے وزیرِ امیگریشن راسمس سٹوکلنڈ کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح غیر ملکیوں کی آمد کو محدود کرنا ہے۔ڈنمارک میں گزشتہ 20 برسوں سے امیگریشن پالیسیاں انتہائی سخت رہی ہیں اور موجودہ وزیراعظم میٹ فریڈرکسن 2019 سے زیرو رفیوجی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 60 لاکھ کی آبادی والے اس ملک نے 2025 میں اب تک 1835 درخواستیں وصول کیں جو کہ ماضی کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔



