امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج جنیوا ہوگا

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آج جنیوا ہوگا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں، مجید تخت راونچی نائب وزیر خارجہ، قائم مقام قانونی امور کے اعلیٰ عہدیدار اور جوہری ماہرین بھی شامل ہیں۔

امریکا کی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، امریکی نمائندہ اور سابق مشیر جیرڈ کشنر، ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا بھی مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے۔

مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کی حدود اور نگرانی، ایران کی یورینیم افزودگی کی سطح اور نگرانی کے قواعد، پرانے جوہری معاہدے کا دوبارہ اطلاق یا نیا فریم ورک، اعتماد سازی کے اقدامات کے سلسلے میں شرائط زیر بحث آئیں گی۔

امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام، علاقائی سکیورٹی پر خدشات کا اظہار کیا، ایران عارضی معاہدے کے مقابلے مکمل اور نتیجہ خیز ڈیل چاہتا ہے۔

ایران کی جانب سے مذاکرات سے قبل ایک تفصیلی تحریری مسودہ تیار کیا گیا ہے، ایران کی طرف سے جوہری صلاحیت کو غیر مسلح، عوامی سہولت تک رکھنے کی یقین دہانی کی تجویز شامل ہے۔

مسودے میں اعتماد سازی کے اقدامات اور نگرانی کے انتظامات کیلئے معاونت، بعض صورتوں میں یورینیم اسٹاک کو کم یا نصف برآمد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

امریکی خدشات یا شرائط کی منظوری کیلئے یہ مسودہ بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔