دنیا
خلاصہ
- نئی دہلی: (دنیا نیوز) فتنہ الہندوستان کی حمایت یافتہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے مسنگ پرسنز سے متعلق بیانیے کی حقیقت ایک بار پھر سامنے آگئی۔
بی وائی سی نے عادل نامی شخص کو 9 نومبر 2024 کو جبری گمشدہ قرار دیتے ہوئے اس کا الزام ریاست پر عائد کیا تھا اور اپنے دھرنوں میں بھی اسے لاپتہ شخص کے طور پر پیش کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق عادل نے 2024 میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت اختیار کی تھی، جس کا اعتراف خود بی ایل اے بھی کر چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عادل 16 فروری 2026 کو آواران میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوا تھا۔
مبصرین کے مطابق اس واقعے سے بی وائی سی کے مسنگ پرسنز سے متعلق دعوں پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں اور یہ معاملہ بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزامات کو تقویت دیتا ہے۔