ایران پر حملے میں تعاون کرنے والے ممالک نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے: عراقچی

ایران پر حملے میں تعاون کرنے والے ممالک نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے: عراقچی

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شرکت یا تعاون کرنے والے ممالک کو نتائج بھگتنا پڑیں گے، ایران کے خلاف استعمال ہونے والی سرزمین کو جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کے خلاف ہونے والی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، شنگھائی تعاون تنظیم کو ایرانی خودمختاری کے احترام کے دفاع میں مضبوط آواز بننا چاہئے۔

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عالمی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام علاقائی اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے، رکن ممالک امریکی جارحیت کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی کوئی جنگ شروع نہیں کی، خطے کا امن دوہرے معیار کے خاتمے سے ہی ممکن ہے، آبنائے ہرمز کے انتظامات میں بیرونی مداخلت آبی گزرگاہ کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے، ایران اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار استحکام صرف علاقائی ممالک کے درمیان باہمی احترام اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ کسی ملک کے منجمد اثاثوں کو ہرجانے کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرنے سے خطرناک نظیر قائم ہو گی، جس سے ساری دنیا میں افراتفری پیدا ہو گی اور دنیا میں کسی کے بھی فنڈز محفوظ نہیں رہیں گے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ آج کے بعد سے جہازوں، ان کے سامانِ تجارت (کارگو) یا اس سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ ایران کے ان فنڈز سے ادا کیا جائے گا جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان اقدامات کا خیر مقدم کر رہے ہیں یا اس سے فائدہ اٹھانے کے متعلق سوچ رہے ہیں، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسروں کی ملکیت ضبط کرنے کو معمول کا عمل بنا لیں تو پھر کوئی بھی جائیداد محفوظ نہیں رہے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں پر ایک بار پھر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے جارحیت ٹرمپ کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کے بعض عہدیدار زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ صرف 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہ امریکی انتظامیہ میں موجود بعض گمراہ افراد نے حقیقت سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، وہ زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ان کی ساری توجہ صرف 2028 پر مرکوز ہے۔

عباس عراقچی نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس بے سوچے سمجھے جارحانہ رویے کی وکالت کر رہے ہیں، اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ کو اس معاہدے کے لیے کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی جسے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔