ایران کا سعودی عرب یمن تنازع بات چیت سے حل کرنے کا مطالبہ

ایران کا سعودی عرب یمن تنازع بات چیت سے حل کرنے کا مطالبہ

ایک بیان میں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ یمن تنازع کا منصفانہ حل ضروری ہے، سعودی عرب کے ساتھ یمن کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ بات چیت پر واپسی اور طے شدہ روڈ میپ پر عمل ہی یمنی عوام کی مشکلات کا حل ہے، خطے میں امریکی پالیسی یمن کی صورتحال کو پیچیدہ کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حوثی ترجمان اور سعودی وفد کی عمان میں ملاقات بھی ہوئی ہے، ملاقات میں علاقائی سلامتی اور استحکام میں پیشرفت پر بات چیت ہوئی۔

اس سے قبل یمن کی حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ نے سعودی عرب کے شہر جازان اور ینبع میں آئل تنصیبات پر میزائل اور ڈرون سے حملوں کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی، اس کے ساتھ ہی حوثیوں نے مزید حملوں کی بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ الحدیدہ پورٹ پر حملے کے جواب میں کارروائیاں کی گئیں۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے 12 سال سے یمنی سرزمین کی غیر منصفانہ ناکہ بندی کر رکھی ہے، سعودی ناکہ بندی کا جواب ناکہ بندی، جبکہ کشیدگی میں اضافے کا جواب کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

ادھر سعودی میڈیا نے حملوں کی تصدیق نہیں کی، تاہم یونانی ایئر فورس نے یمن سے آنے والے میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتے کے صبح یمن سے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرائے۔