خلاصہ
- ٹیکس محصولات کا ہدف 3621 ارب روپے تھا جبکہ وصولیاں 3500 ارب ہی ہو سکیں۔ ملکی برآمدات کا ہدف 24.8 ارب ڈالر مقرر تھا۔ برآمدات 21.7 ارب ڈالر تک ہی محدود رہیں۔ درآمدات 45.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
اسلام آباد: (دنیا نیوز) رواں مالی سال کا اقتصادی سروے کل جاری کیا جائے گا۔ حکومت معاشی ترقی، برآمدات، سرمایہ کاری سمیت اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ٹیکس محصولات کا ہدف 3621 ارب روپے جبکہ وصولیاں 3500 ارب ہی ہو سکیں۔ معاشی ترقی کا مقررہ ہدف 5.70 فیصد، شرح 5.28 فیصد رہی۔ بر آمدات میں تین ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔ مہنگائی کی شرح 6 فیصد سے کم رکھنے کا ہدف حاصل کیا گیا۔ بجٹ میں ملکی برآمدات کا ہدف 24.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا تھا لیکن برآمدات صرف 21.7 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ درآمدات 45.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ صنعتوں کی ترقی 7.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 5.02 فیصد رہیں جبکہ زراعت کی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد کے بجائے 3.46 فیصد رہا۔ سرمایہ کاری 17.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں 15.8 فیصد رہی۔ افراط زر کی اوسط شرح 4.09 فیصد تک رہی۔ چمڑے کی مصنوعات کی پیداوار 17 فی صد کم رہی۔ گندم کی پیداوار 2 کروڑ 55 لاکھ ٹن جبکہ کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 5 لاکھ گانٹھ ہونے کا امکان ہے۔