تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاک آرمی کی چولستان کےدورافتادہ علاقوں میں مفت طبی سہولتیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈرنےہدایت کی کہ زیادہ ترمریضوں کوطبی سہولتیں دی جائیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- منصوبےکوعملی جامہ پہنانے کیلئے پاک آرمی کی خصوصی ٹیمیں تشکیل،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- ضلعی انتظامیہ کےساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئےسرگرم ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- 2021 میں چنن پیر،کھتری بنگلہ،دین گڑھ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کاانعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- چاہ ناگراں،چاہ ملکانہ میں میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاجاچکاہے،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کالاپہاڑ،احمدپورایسٹ، منچن آباد اور چشتیاں میں فری میڈیکل اورآئی کیمپ کا انعقادکیاگیا
  • بریکنگ :- 12 ہزارافراد کوفری طبی سہولیات مہیا کی جا چکی ہیں،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- تحصیل اسپتال فورٹ عباس میں فری میڈیکل کیمپ 12سے 17 اکتوبرتک جاری ہے
  • بریکنگ :- 15 اکتوبر 2021کوکورکمانڈر بہاولپورنےآئی کیمپ کا دورہ کیا،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- کورکمانڈربہاولپورنےکیمپوں میں دی گئی سہولتوں کاجائزہ لیا،آئی ایس پی آر

فیصل آباد: موٹر وہیکل ایگزامینر کی عدم تعیناتی سے ہیوی ٹریفک کے لائسنس کا اجراء رک گیا

Published On 05 August,2021 10:53 am

فیصل آباد: (دنیا نیوز) فیصل آباد میں موٹر وہیکل ایگزامینر کی تعیناتی نہ ہونے سے ہیوی ٹریفک کے لائسنس کا اجراء رک گیا، شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

فیصل آباد میں ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ موٹروہیکل ایگزامینر کے بغیر ہی چلنے لگا۔ مسافر بردار گاڑیوں اور ہیوی ٹریفک کے لائسنس کا اجراء ایگزامینر کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے لٹک گیا۔ لائسنس حاصل کرنے کے خواہشمند شہری کہتے ہیں کہ وہ کئی ماہ سے خوار ہورہے ہیں لیکن ان کی فائل تک وصول نہیں کی جارہی۔

ٹریفک پولیس کی لائسنس برانچ میں مسافر بردار گاڑیوں اور ہیوی ٹریفک کے ایل ٹی وی، ایچ ٹی وی اور پی ایس وی لائسنس کا اجراء موٹر وہیکل ایگزامینر کی منظوری سے ہی مشروط ہوتا ہے لیکن فیصل آباد کے ایم وی ای ملک لیاقت کو دو ماہ قبل تبدیل کیا گیا جن کی جگہ کوئی آفیسر نہ لگایا جاسکا۔

سیکرٹری آر ٹی اے کہتے ہیں کہ حکام کو درخواست بھیجی ہے جلد تعیناتی متوقع ہے۔ مقامی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی غفلت کے باعث تبدیل ہونے والے آفیسر کی جگہ پر کسی متبادل آفیسر کی عارضی تعیناتی بھی نہ کی جاسکی جس کا خمیازہ امیدواروں کو خواری کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔