خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) پن بجلی کی انتہائی کم پیداوار، دھند اور کمزور ترسیلی نظام بجلی شارٹ فال کے بڑے اسباب ہیں۔
پاور ڈویژن ذرائع کے مطابق اس وقت ملکی بجلی کا انحصار جنوب پر ہے، بجلی کا ترسیلی نظام غیر مستحکم ہونے کا خدشہ ہے، پن بجلی کی اوسط پیداوار اس وقت 930 میگاواٹ ہے، تربیلا ڈیم سے اوسط پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ غازی بھروتھا سے 300 میگاواٹ اوسط بجلی پیدا ہورہی ہے،اس وقت ملک بھر میں 2 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کا شارٹ فال ہے، ملک کے جنوبی علاقوں میں دھند کے باعث بجلی کی ترسیل میں رکاوٹیں درپیش ہیں، جنوب سے آنے والے ترسیلی نظام میں ٹرپنگ ہورہی ہے۔
پاور ڈویژن ذرائع کا کہنا تھا کہ غیر متوازن بجلی نظام سے ملک بھر میں بجلی کے بڑے بریک ڈاون کا خدشہ برقرار ہے، ترسیلی کمپنیاں اور تقسیم کار کمپنیوں کو لوڈ متوازن رکھنے کے لیے کوششیں کررہی ہے، بجلی کا لوڈ متوازن رکھنے کیلئے ملک بھر میں لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں 12 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، پچھلے سال کی نسبت اس سال ڈیمانڈ زیادہ ہے، اس وقت سسٹم میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ڈیمانڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے سسٹم زیادہ مستحکم ہے،اس سال اوسطاً پچھلے سال کی نسبت 2000 میگاواٹ کی زیادہ ڈیمانڈ ہے۔
دوسری جانب ترجمان پاور ڈویژن کا مزید کہنا تھا کہ ڈیمز سے پیداوار سردیوں کی کچھ مہینوں میں کم ہوتی ہے، اس وقت ہمارے سسٹم میں اس کی متبادل بجلی ہوتی ہے، ملک بھر میں اس وقت پیک آورز میں آج کل صرف 1000میگاواٹ تک کا شارٹ فال آتا ہے۔