خلاصہ
- کراچی میں خوف پھیلانے والا چاقو مار آخر کہاں گیا؟ دس روز سے ملزم کی وارداتیں بند، روپوشی کے بعد پولیس حکام مطمئن، گروپ نہیں ایک ہی شخص ملوث ہے، چھلاوا جلد پکڑا جائے گا، وزیر اعلیٰ سندھ کی یقین دہانی۔
کراچی: (دنیا نیوز) شہر قائد میں خوف پھیلانے والا چاقو مار آخر گیا کہاں؟ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ پولیس کے لئے چھلاوا بننے والے چاقو مار نے 25 ستمبر سے وارداتیں شروع کیں۔ آخری واردات 5 اکتوبر کو کی۔ ملزم نے دس روز کے دوران پانچ کلو میٹر کے ایریا میں بارہ خواتین کو زخمی کیا۔ پولیس، سی ٹی ڈی، رینجرز، اے سی ایل سی، اے وی سی سی سمیت دیگر اداروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود چاقو مار تاحال نہیں پکڑا جا سکا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ چاقو مار کی شناخت ہو گئی ہے، کراچی میں خواتین کو زخمی کرنے والا ساہیوال کا چاقو مار وسیم ہے، وسیم ایک ماہ سے کراچی میں ہے۔ تفتیشی حکام نے وسیم کے اہلخانہ اور دوستوں سمیت بارہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی ہے۔ پولیس کو وسیم تو آج ملا ہے لیکن پولیس نے دباؤ کم کرنے کے لئے وسیم کے دوست شہزاد کو بلی کا بکرا بنا کر کئی روز سے پکڑ رکھا ہے۔
پولیس نے چاقو مار کی تلاش کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ گلستان جوہر، شارع فیصل، ناظم آباد، گلشن اقبال سے چاقو مار سے مشابہت رکھنے والے درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی ہے۔ کئی کو مک مکا کر کے چھوڑ دیا گیا اور جو کچھ نہ دے سکا اسے کیس بنا کر فٹ کر دیا گیا۔ بہرنوع چاقو مار کے روپوش ہونے کے بعد کراچی پولیس نے سکھ کا سانس لیا ہے۔