تازہ ترین
  • بریکنگ :- این اے 249 پرووٹوں کی دوبارہ گنتی کامعاملہ
  • بریکنگ :- کراچی:60 پولنگ اسٹیشنزپرووٹوں کی گنتی مکمل
  • بریکنگ :- امجدآفریدی کےمستردووٹوں کی تعداد34 ہوگئی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےقادرخان مندوخیل کے 134ووٹ مستردقرار
  • بریکنگ :- مفتاح اسماعیل کے 194ووٹ مستردقرار،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- ایم کیوایم کےحافظ مرسلین کے 108ووٹ مسترد،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- کل صبح 9بجےمزیدپولنگ اسٹیشنزکےووٹوں کی گنتی شروع ہوگی،الیکشن کمیشن

بھارت جیسا کورونا بحران کہیں بھی پیدا ہو سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او نے انتباہ جاری کر دیا

Published On 30 April,2021 05:05 pm

لندن: (ویب ڈیسک) عالمی ادارہ صحت نے یورپی ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے حوالے سے اقدامات میں نرمی سے ایک ’سخت طوفان‘ آ سکتا ہے، جیسا بھارت میں دیکھا گیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق بھارت میں نئے کیسز اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کا الزام ماہرین ایک ارب 30 کروڑ کی آبادی والے ملک میں بڑے اجتماعات کو دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت یورپ کے سربراہ ہنس کلوج نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ممالک کو انفیکشن کی ایسی ہی نئی لہر سے بچنے کے لیے پابندیوں میں بہت جلدی نرمی کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب ذاتی حفاظتی اقدامات میں نرمی کی جا رہی ہو، جب بڑے پیمانے پر اجتماعات ہو رہے ہو، جب وائرس کے زیادہ پھیلاؤ والی قسم ہو اور ویکسینیشن کا عمل بدستور کم ہو تو یہ کسی بھی ملک میں ایک سخت طوفان پیدا کر سکتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بھارت جیسی صورتحال کہی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس کی یہ نام نہاد نئی قسم پورے ملک میں پھیل رہی ہے۔ لیکن ابھی تک عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ یہ وائرس کی دوسری اقسام کی نسبت زیادہ پھیلتا ہے یا زیادہ مہلک ہے۔

ماہرین کے مطابق بڑے اجتماعات جیسے سپورٹس میچز یا شادیاں کیسز میں اضافے کی وجوہات میں سے ایک ہیں۔

جبکہ عالمی ادارہ صحت یورپ کے سربراہ نے یورپی ممالک کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انفرادی اور اجتماعی صحت اور معاشرتی اقدامات وبا کی تشکیل میں اہم عوامل رہے ہیں۔