خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان کو زیادہ وقت تک مسلسل چہل قدمی کی ضرورت نہیں بلکہ مختصر وقت تک چلنا بھی صحت کیلئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
جرنل پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن بھر میں کئی بار مختصر چہل قدمی سے صحت کو زیادہ وقت تک چہل قدمی کرنے جتنا ہی فائدہ ہوسکتا ہے، تحقیق میں 10 افراد کو شامل کیا گیا جو چہل قدمی کرنے کے عادی تھے مگر ہر ایک کی چہل قدمی کا دورانیہ مختلف تھا۔
تحقیق میں شامل کچھ افراد مختصر وقت یا چند منٹ کیلئے تیز رفتاری سے چہل قدمی کرتے تھے جبکہ کچھ سست روی سے کافی دیر تک چلتے تھے، نتائج سے دریافت کیا گیا کہ جو افراد چہل قدمی کے دوران 10 سے 30 سیکنڈ کا وقفہ کرتے ہیں، وہ زیادہ جسمانی توانائی اور کیلوریز جلاتے ہیں۔
اسی طرح یہ بھی دریافت ہوا کہ کچھ منٹ تک تیز رفتاری سے چہل قدمی سے طویل وقت تک چلنے کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے، مختصر وقت تک تیز رفتاری سے چہل قدمی سے کیلوریز بھی زیادہ جلتی ہیں، یہ تمام عوامل صحت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ مختلف امراض کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ مختصر چہل قدمی سے میٹابولزم کی رفتار تیز ہوتی ہے جس سے جسم زیادہ کیلوریز جلاتا ہے اور جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے، اس عادت سے طویل وقت تک بیٹھے رہنے سے جسم پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے سے امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے، میٹابولزم کی رفتار گھٹ جاتی ہے جبکہ خون کی گردش متاثر ہوتی ہے اور کینسر کی کچھ اقسام کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، جب کہ اس عادت سے ذہنی صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے، تخلیقی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور تناؤ میں کمی آتی ہے۔
محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کسی حد تک محدود تھی کیونکہ اس میں بہت کم افراد کو شامل کیا گیا تھا، مگر انہوں نے کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ دن بھر کیلئے جسم کو وقفے وقفے سے متحرک رکھنا صحت کیلئے بہتر ہوتا ہے۔