تازہ ترین
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پرکابینہ میں بحث ہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ابھی پوری رپورٹ شائع نہیں کی گئی ،فواد چودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کامعیارمختلف ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں فنانشل کرپشن شامل نہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ مکمل آئےگی توجواب دیں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کوئی شبہ نہیں رول آف لاپربہت کام کی ضرورت ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- پاکستان میں امیراورغریب کےلیےالگ الگ قانون ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- کرمینل جسٹس ریفارمزسےکیسزنمٹانےمیں مددملے گی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- شہبازشریف اورزرداری کیسزکولائیودکھایا جائے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لوگوں کوپتاچلےچپڑاسیوں کےاکاؤنٹ میں پیسےکیسے آئے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں آئل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- مشینری کی35فیصدامپورٹ کامطلب ٹیکسٹائل انڈسٹری گروتھ کرےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اوورسیزپاکستانی ساڑھے3 ہزارارب روپےملک بھجواچکےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آئی ٹی ایکسپورٹ میں48 فیصداضافہ ہوا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- اسحاق ڈارکی طرح روپیہ مستحکم نہیں کررہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ میں20 فیصداضافہ ہوا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمباکوکاشت کرنیوالوں کےلیےبڑاریلیف ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمباکوکی قیمت 245روپے مقرر کی گئی ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چلغوزوں پر 45فیصدڈیوٹی ختم کی گئی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چلغوزےاب مہنگےنہیں ہوں گے،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- فائیوجی لائسنس سےمتعلق کمیٹی بنادی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حج اورعمرہ ریگولیشن ایکٹ کی منظوری دی گئی ،فوادچودھری
  • بریکنگ :- بہت سےمقدمات پرپلی بارگین ہوسکےگی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- تیرچلےگا نہ تلواریہ بازومیرےآزمائےہوئےہیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم کہہ رہےہیں زیرالتواکیسزنمٹائےجائیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- شہزاد اکبرنےبہت اچھاکام کیا،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- شہزاداکبرکی جگہ آنیوالےکوچیلنج کاسامناہوگا،فواد چودھری
  • بریکنگ :- چودھری شجاعت ہمارےبزرگ ہیں ان کی باتوں کواہمیت دیتےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- (ق)لیگ ہماری اتحادی ہےان کی رائےکااحترام کرتےہیں،فوادچودھری

یو این جنرل اسمبلی سے خطاب، وزیراعظم 23 ستمبر کو نیو یارک جائینگے

Last Updated On 22 August,2019 07:21 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم کے دورہ امریکا کا ابتدائی شیڈول تیار کر لیا گیا۔ عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دورہ امریکا کے دوران متعدد عالمی رہنمئاوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

 

دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم کے دورہ امریکا کا ابتدائی شیڈول تیار کر لیا گیا ہے، یہ دورہ چار روزہ ہو گا، 23 ستمبر کو عمران خان نجی طیارہ پر نیو یارک جائیں گے اور 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود وزیراعظم سے پہلے امریکہ پہنچیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی مودی کے دورہ امریکا کے موقع پر بھرپور احتجاج کی ہدایت

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان 27 ستمبر کی رات کو ہی وطن واپس روانہ ہوں گے۔

اس سے قبل امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات کا امکان ختم ہوگیا، مذاکرات کے لیے تمام تر کوشش کی لیکن اب مودی سرکار سے بات چیت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے مابین جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لئے بھارت کی طرف کئی بار ہاتھ بڑھایا اور بات چیت کی کوشش کی لیکن بد قسمتی سے بھارت نے ان تمام کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔ وہ جب ماضی میں جھانکتے ہیں تو انہیں خطے میں قیام امن کی خواہش اور بھارت سے بات چیت کے لئے کی گئی اپنی تمام کوششیں رائیگاں ہوتی نظر آئیں۔

عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور وادی میں انسانی حقوق کو پامال کرنے پر بھارت سرکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج اور مبصرین کشمیر بھیجے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ 2 ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہو سکتا ہے، کشیدگی بڑھنے کاخطرہ ہے، دنیا کو اس صورتحال سے خبردار رہنا چاہیے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کی جانیں خطرے میں ہیں، خدشہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی ہونے والی ہے، نئی دلی حکومت نازی جرمنی جیسی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتہائی تباہ کن صورتحال کے خدشے سے آگاہ کر دیا۔

عمران خان کا کہنا تھاکہ اس وقت نئی دہلی میں جو حکومت ہے وہ جرمنی کے نازیوں جیسی ہی ہے۔ س وقت 2 ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈالے ہوئے ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے، دنیا کو اس صورتحال سے خبردار رہنا چاہیے۔