تازہ ترین
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت نے ملک کوتباہی کی طرف دھکیل دیا ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- واضح ہوگیاان کی معیشت ٹھیک کرنےکی تیاری نہیں تھی،عمران خان
  • بریکنگ :- واضح ہوگیا یہ مہنگائی کم کرنےنہیں آئےتھے،عمران خان
  • بریکنگ :- بجٹ سےپہلےہی پٹرول،ڈیزل،بجلی کی قیمتیں بڑھادی گئیں،عمران خان
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت نےعام آدمی کا معاشی قتل کردیا ،عمران خان
  • بریکنگ :- انہوں نےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھانی ہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ڈیزل کی قیمت کا سب سےزیادہ اثرکسانوں پرپڑے گا،عمران خان
  • بریکنگ :- سپرٹیکس سےکارپوریٹ سیکٹرپر 40 فیصد ٹیکس ہوجائے گا،عمران خان
  • بریکنگ :- سپرٹیکس کی وجہ سے ہرچیزمہنگی ہوجائےگی،عمران خان
  • بریکنگ :- انڈسٹریز نےمزدوروں کو نکالنا شروع کردیا ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- سپرٹیکس لگنےسےکئی فیکٹریاں بندہوناشروع ہوگئی ہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہماری حکومت نےانڈسٹریزپرٹیکسزکا بوجھ نہیں ڈالا تھا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہماری حکومت میں انڈسٹریزکومزدورنہیں مل رہےتھے،عمران خان
  • بریکنگ :- ہماری حکومت میں ٹیکسٹائل انڈسٹریز نے ترقی کی،عمران خان
  • بریکنگ :- موجودہ حکومت نےتنخواہ دارطبقے پرٹیکس بڑھادیا ،عمران خان
  • بریکنگ :- تنخواہ دارطبقےکوپہلےایک لاکھ تک چھوٹ دی گئی تھی،عمران خان
  • بریکنگ :- اب سلیب کو 50 ہزار روپے تک لے آئے ہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ایک لاکھ تنخواہ لینےوالے کا ٹیکس دگنا کردیا گیا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہماری حکومت نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا تھا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےجولوگ ٹیکس دےرہےتھےان پربوجھ نہیں ڈالا،عمران خان
  • بریکنگ :- ٹیکس نہ دینےوالے 4 کروڑ 30لاکھ گھرانوں کوٹیکس نیٹ میں شامل کیا،عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام آباد:روپیہ کی قدر تیزی سے گر رہی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- عدم اعتمادکےبعد ڈالر 212 روپےتک پہنچ چکا،عمران خان
  • بریکنگ :- روپیہ،اسٹاک مارکیٹ گرنےسےریکارڈمہنگائی ہوئی،عمران خان
  • بریکنگ :- بجٹ کے بعد سارا بوجھ تنخواہ دارطبقے پرپڑے گا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہماری حکومت نےکوروناکےدوران سب سےزیادہ روزگاردیا،عمران خان

کرونا کی 13 اقسام، شکل بدل کر انسانوں کو متاثر کرتا رہا

Last Updated On 28 January,2020 09:31 am

لاہور: (بلال چودھری) کرونا وائرس کی نصف درجن سے زائد اقسام دریافت ہوچکی ہیں۔ جب اسے خردبین کے ذریعے دیکھا گیا تو نیم گول وائرس کے کناروں پر ایسے ابھار نظرآئے جوعموماَ تاج (کراؤن) جیسی شکل بناتے ہیں۔ اب بھی زیادہ تر جان دار مثلاً خنزیر اور مرغیاں ہی اس سے متاثر ہوتے دیکھے گئے ہیں لیکن یہ وائرس اپنی شکل بدل کر انسانوں کو بھی متاثر کرتا رہا ہے۔

1960ء کے عشرے میں کرونا وائرس کا نام دنیا نے سنا اور اب تک اس کی کئی تبدیل شدہ اقسام ( مجموعی طور پر 13) سامنے آچکی ہیں جنہیں اپنی آسانی کے لیے کرونا وائرس کا ہی نام دیا گیا تاہم کرونا وائرس کی 13 اقسام میں سے 7 انسانوں میں منتقل ہو کر انہیں متاثر کرسکتی ہیں۔ اس سال چین کے شہر ووہان میں ہلاکت خیز وائرس کو کرونا وائرس کا نام دیا گیا ہے جو اس وائرس کی بالکل نئی قسم ہے۔ ووہان وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ کرتے ہوئے سانس کے نچلے نظام کو متاثر کرتا ہے اور جان لیوا نمونیا یا فلو کی وجہ بن سکتا ہے۔

اس سے قبل 2003ء میں سارس وائرس سے چین میں 774 افراد ہلاک اور 8000 متاثر ہوئے تھے۔ مرض اس سے بھی زیادہ ہولناک تھا۔ چین میں لوگوں نے بد ہضمی، سردی لگنے، بخار اور کھانسی کی شکایت کی ہے۔ جن پر حملہ شدید ہوا انہوں نے سانس لینے میں دقت بیان کی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں کے ماہرین کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے کے دو روز سے دو ہفتے کے دوران اس کی ظاہری علامات سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد ضروری ہے کہ مریض کو الگ تھلگ رکھا جائے۔

اس وقت ووہان کے لوگوں نے کئی دنوں کا راشن جمع کرلیا ہے اور اکثریت باہر نکلنے سے گریزاں ہے۔ اب تک اس کی کوئی اینٹی وائرل دوا یا ویکسین سامنے نہیں آسکی صرف سپورٹیو علاج معالجہ ہی کیا جا رہا ہے کیونکہ دسمبر 2019 میں نیا وائرس سامنے آیا ہے اور ماہرین اس کی ظاہری علامات سے ہی اس کا علاج کر رہے ہیں۔ چند روز قبل چینی سائنس دانوں نے جینیاتی تحقیق کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ پہلی مرتبہ کرونا وائرس کی کوئی نئی قسم سانپ سے پھیلی ہے جنہیں ووہان کے بازار میں زندہ چمگادڑوں کے ساتھ رکھا گیا تھا تاہم دیگر ماہرین نے یہ امکان رد کر دیا۔

چین میں سانپ، حشرات اور چمکادڑوں کے سوپ اور کھانے عام ہیں۔ دیگر ممالک کے ماہرین کا اصرار ہے کہ پہلے کی طرح یہ وائرس بھی ایسے جانوروں سے پھیلا ہے جو چینی بازاروں میں پھل اور سبزیوں کے پاس ہی زندہ فروخت کیے جاتے ہیں۔ لوگ ان سے متاثر ہوسکتے ہیں اور سارس بھی ایسے ہی پھیلا تھا۔ چینی ماہرین کا اصرار ہے کہ سانپ اور چمگاڈروں کا فضلہ ہوا میں پھیل کر سائنس کے ذریعے انسانوں میں اس وائرس کی وجہ بن سکتا ہے لیکن دوسرے ماہرین اس سے متفق نہیں۔

کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز و دیگر عملے کو حفاظتی لباس پہنا دیا گیا، سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کائونٹر قائم کر دیا گیا۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر پلیٹھہ ماہی پالا نے ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر کو کرونا وائرس کی کٹس فراہم کر دیں، سروسز ہسپتال انتظامیہ نے کرونا وائرس کی مشتبہ مریض میلی کے علاج معالجہ کرنے والے ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی لباس پہنا دئیے۔ حفاظتی لباس پی پی ای میں ماسک، گلوز، گوگلز بھی شامل ہیں۔ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں کرونا وائرس کائونٹر قائم کر دیا گیا۔ ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ کا کہنا تھا کہ حفاظتی لباس مہیا کرنے کا مقصد ڈاکٹرز و دیگر عملے کو مہلک وائرس سے بچانا ہے جبکہ سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج میلی کی طبیعت بہتری کی جانب گامزن ہے۔