7 ہزار ریلوے مزدوروں کی ٹیسٹنگ کا کوئی انتظام نہیں

7 ہزار ریلوے مزدوروں کی ٹیسٹنگ کا کوئی انتظام نہیں

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ریلوے ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ کی کٹس ہی موجود نہیں، جس کی بنا پر اس جلد بازی پر مبنی اقدام کے باعث جب 13 اپریل کو  مشتبہ  مزدور ڈیوٹی پر واپس آئیں گے تو کورونا وائرس پھیلنے کا خوف بدستور موجود ہوگا، جس کے بعد اس لاک ڈاؤن کو توسیع دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ وزارت ریلوے کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین کی طرف سے کورونا ٹیسٹ کٹس صوبائی حکومتوں کو دی گئی ہیں اس لئے مغلپورہ ورکشاپس کے مزدوروں میں سے ممکنہ طور پر ایوب غوری کی پینٹس اور دیگر شاپس کے مزدوروں کے ٹیسٹ کمشنر لاہور کے ذریعے محکمہ صحت سے کرانے کی درخواست کی جائے گی۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ 7 اپریل کی رات دنیا اور لاہور نیوز پر خبر نشر ہونے کے بعد رات گئے ریلوے کالونیوں میں مساجد کے لاؤڈ سپیکرز پراعلانات کروائے گئے کہ وہ (بدھ 8 اپریل کو) کام پر نہ آئیں لیکن اس کے باوجود بدھ کی صبح ہزاروں مزدور ورکشاپس میں ڈیوٹی کیلئے پہنچ گئے تو انہیں گیٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔ خبر پر موقف کیلئے جب وفاقی سیکرٹری وزارت ریلوے حبیب الرحمن گیلانی سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا بدھ کی صبح وزارت ریلوے اسلام آباد میں مغلپورہ ورکشاپس کی صورتحال کا ہنگامی جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں 12 اپریل تک لاک ڈاؤن کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ 12 اپریل کو میں خود حالات دیکھ کر اگلا فیصلہ کروں گا۔