تازہ ترین
  • بریکنگ :- لندن:گورنرپنجاب محمدسرورکےاعزازمیں استقبالیہ
  • بریکنگ :- پارٹی کی طرف سےعہدہ چھوڑنےکاکہاجاناجھوٹ ہے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- لندن:سائیڈلائن کیےجانےکاتاثربھی درست نہیں،چودھری محمدسرور
  • بریکنگ :- پارٹی ڈسپلن کاپابندہوں،پارٹی کہےگی توعہدہ چھوڑدوں گا،چودھری سرور

اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیرمیں سنگین صورتحال کے تدارک کیلئےکردارادا کرے:وزیراعظم

Last Updated On 10 August,2020 09:21 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سنگین صورتحال کے تدارک کے لئے اپنا جائز کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کشمیری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں دیے گئے حق خود ارادیت کا استعمال کر سکیں۔

وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے منتخب صدر وولکن بوزکر سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے آج اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نے گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد سے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری عوام کے انسانی حقوق کو منظم انداز میں سلب کرنے کی جاری کارروائیوں اور مقبوضہ وادی کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ شاہ محمود سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر کی ملاقات

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر وولکن بوزکر نے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل سمیت خطے میں جاری امن کی کوششوں، بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے وولکن بوزکر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ دنیا ایک طرف کورونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف ہم عالمی معاشی بحران کو پنپتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ کورونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر جامع اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔

وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کے صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کر رہا ہے۔خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد ناگزیر ہے۔

اس سے پہلے وولکن بوزکر کی وزارت خارجہ پہنچے تو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے استقبال کیا۔ وولکن بوزکر نے وزارت خارجہ کے لان میں بھی پودا لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی ایشیائی ملکوں کی ترقی کیلئے خطے میں امن و استحکام ضروری ہے: وزیراعظم

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح کیساتھ ٹیلیفون رابطے کے دوران کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ملکوں کی ترقی کیلئے خطے میں امن واستحکام ضروری ہے۔ پاکستان مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح کیساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے کورونا وبا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے مالدیپ کے صدر کو کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات اور جنوبی ایشیا میں امن وامان سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ملکوں کو صحت اور مالیاتی شعبے میں چیلنجز درپیش ہیں۔ پاکستان مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، کورونا کے خاتمے، معیشت خصوصاً سیاحت کی بحالی کیلئے مالدیپ کے اقدامات قابل تعریف ہیں، سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کامیاب رہی اور اہم معاشی شعبے بتدریج کھولے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں میں نرمی کے عالمی پروگرام کا مقصد ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو کورونا کے اثرات سے بچانا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے پاس طبی شعبے کی بہتری کے لئے وسائل کم ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مالدیپ کے وزیر خارجہ عبد اللہ شاہد نے پاکستان میں سیلاب سے ہونیوالی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دعائیں سیلاب سے متاثرین کیساتھ ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عبد اللہ شاہد کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی فکر مندی اور دعاؤں کا شکریہ۔