تازہ ترین
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کسی طرح کے احتجاج کے خلاف نہیں،سعید غنی
  • بریکنگ :- ایم کیوایم نےپریس کلب کےباہرمظاہرےکااعلان کیاتھا،سعید غنی
  • بریکنگ :- امن وامان کوقائم رکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے،سعیدغنی
  • بریکنگ :- احتجاج کامقصدبلدیاتی ایکٹ نہیں،بنیادی مسائل سےتوجہ ہٹاناہے،سعیدغنی

وہ وعدے جو وفا نہ ہوئے

Published On 18 August,2020 02:34 pm

لاہور: (تحریر : طارق حبیب، احمد ندیم، مہروز علی) گزشتہ دو سال میں ملک میں بیروزگاری کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ایف بی آر نے مالی سال 2019-20 میں 3989 ارب روپے اکھٹے کیے جو کہ ابتدائی طور پر مقررہ ہدف سے 1514 ارب روپے کم تھے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ صرف ایک سیاسی نعرہ تھا جس کو عملی جامع پہنانے کیلئے تحریک انصاف کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں۔

25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستانی عوام سے مختلف وعدے کیے اور حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے نئے پاکستان کے قیام کے لئے مختلف شعبوں میں اصلاحات کے اعلانات کیے۔ حکومت کی جانب سے دئیے گئے روڈ میپ کے مطابق جن شعبوں میں فوری اصلاحات لانے کے وعدے کیے گئے تھے ان میں طرز حکومت میں تبدیلی، معیشت کی بحالی،بدعنوانی کا خاتمہ، انصاف کی جلد فراہمی، سیاحت کا فروغ، کفایت شعاری مہم، غربت کے خاتمے، سول سروسز اور پولیس کے محکمے کی بہتری اور ہاوسنگ، زراعت اور لائیو سٹاک جیسے شعبوں کی ترقی شامل تھے۔

بدعنوانی کے خلاف مہم اور احتساب

کرپشن کو ملک کا سب سے بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف نے حکومت میں آتے ہی اس کے خلاف مہم کاآغاز کیا اور نیب کو مضبوط اور فعال بنانے پر توجہ دی۔ اولین ترجیح کے طور پر ملک سے لوٹی گئی دولت کو واپس لانے کے لئے وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کردی گئی اور حکومت نے مختلف ملکوں کے ساتھ اس معاملے پر تعاون کیلئے کوششیں شروع کیں۔ حکومت کے پہلے سو روز مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم کو آگاہ کیا تھا کہ لوٹی دولت واپس لانے کیلئے 26 ممالک سے معاہدے ہوچکے ہیںاور ان ممالک سے حاصل معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالران ممالک میں موجود ہیںجو کہ جلد واپس لائے جائیںگے۔ آج دو سال مکمل ہوئے تاہم حکومت اپنے اس دعوے کو پورا نہیں کر سکی۔ مزید براں ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کو بھی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے برسر اقتدار آتے ہی قومی احتساب بیورو کی کارروائیوں میں تیزی آگئی اور بڑے پیمانے پرسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سرکاری افسران اور کاروباری افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں عمل میںلائی گئی ہیں البتہ اس مہم کو سیاسی انتقام بھی قرار دیا جاتا ہے۔ نیب کی کارروائیوں کے سبب سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق صدر آصف علی زرداری اور متعدد سیاسی رہنما بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروںکو بھی متحرک کیا گیا۔اس ضمن میں حکومت نے فارن ایکس چینج ریگولیشن ترمیمی بل 2019ء اور اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2019ء بھی اسمبلی سے منظور کروا لیا جن کے تحت منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کی سزائیں بڑھا دی گئی ہیں۔ بل کے تحت مشکوک لین دین میں ملوث افراد کو دس سال تک سزا مل سکے گی جبکہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو اب پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہو گا۔ منی لانڈرنگ اب قابل دست اندازی جرم ہوگا اور منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کو تفتیشی افسر گرفتار کرکے اس کی گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرے گا۔ نیز مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ مشکوک ٹرانزیکشننز کی تحقیقات کرے گا۔ بل کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ کے قانون کو بین الاقوامی معیارات کے ساتھ منظم کیا جائے گا۔

پنجاب حکومت نے کرپشن کی اطلاع اور عوامی شکایات کے اندراج کے لیے ایپ تیار کر لی ہے۔  رپورٹ کرپشن   کے نام پر بنی ایپ کے ذریعے عوام کرپشن کے بارے میںآن لائن شکایات درج کرواسکیں گے۔ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والوں کیلئے شناخت چھپانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں کرپشن کے خاتمے کیلئے وزیراعظم ہاؤس میں شکایت سیل بھی بن گیا ہے۔ ان سارے ذیلی اقدامات کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے بیانیے پر پورا اترنے میں ناکام نظر آئی ہے جس کی بنیادی وجوہات میں نیب قوانین میں ترامیم وادارے کی اصلاحات میں تاخیر اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں ناکامی سرفہرست ہے۔

پولیس کے نظام میں اصلاحات

پنجاب کی پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کیلئے خیبر پختونخوا پولیس کے ماڈل کو پنجاب میں متعارف کروانے کے حوالے سے5رکنی کمیشن تشکیل دیا گیا تھا ،جس کے چیئرمین سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر خان درانی جبکہ دیگر ممبران میں ڈی آئی جی شہزادہ سلطان، ایس ایس پی سی ٹی ڈی شہزاد آصف خان، ایس پی نجیب الرحمن اور ایس ایس پی محمد شعیب شامل تھے ۔ اس کمیشن نے پنجاب پولیس کو غیر سیاسی بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرنا تھیںلیکن کچھ عرصہ بعد ہی اس کمیشن کے چیئرمین ناصر خان درانی نے خود کو اس کمیشن سے علیحدہ کر لیا جس کے بعد یہ ذمہ داری آئی جی پنجاب کو سونپی گئی۔ سپریم کورٹ کے تحت قائم جسٹس اینڈ لاء کمیشن اور وزارت قانون کے مطابق پنجاب اور سندھ میں پولیس نظام میں اصلاحات سے متعلق مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے زیادہ تفصیلات موجود نہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پولیس کو غیر سیاسی بنانے میں ناکام رہی کیونکہ ڈی پی اوپاکپتن ،آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب کے تبادلوں کے واقعات سب کے سامنے ہیں۔ تھانوں کے اندر ہونے والاتشدد، دوران حراست ا موات اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی بارہا سامنے آئے ہیں۔ پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے صلاح الدین اور عامر مسیح سمیت پنجاب میں ایک سال میں 17 سے زائد ملزمان کا پولیس حراست کے دوران ہلاکتوں کا انکشاف ہوا تھا۔اس کے علاوہ پنجاب پولیس کا نجی ٹارچر سیل بھی برآمد ہوا تھاجہاں ملزمان کو غیرقانونی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

50 لاکھ گھروں کی تعمیر

اس ضمن میں ایک 17 رکنی ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی جس کی ابتدائی ورکنگ مکمل ہونے کے بعد حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا سنگ بنیاد اکتوبر 2018 میں رکھا۔ ابتدائی طور پر سات اضلاع فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، گلگت اور مظفر آباد میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان ہوا۔ اس ضمن میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیااور اس سال 10 مارچ کو وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں 20 ہزار گھروں کی تعمیر کے سات منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے لیے 30 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیاہے، یعنی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت پہلے ایک لاکھ مکانات کو فی کس 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ حکومت کے دو سال مکمل ہوچکے ہیں تاہم یہ منصوبہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔شعبہ تعمیرات کے ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ پرائیویٹ سیکٹرکی سرمایہ کاری پر منحصر ہے اور آئندہ تین سالوں میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر غیر حقیقت پسندانہ ٹارگٹ ہے۔

نوجوانوں کیلئے ایک کروڑ

نوکریاں اور بلا سود قرضے

پی ٹی آئی نے لیبر مارکیٹ کو مضبوط کرنے اور بیروزگاری کم کرنے کیلئے ایک کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا البتہ نتائج اس کے برعکس نکلے۔گزشتہ دو سال میں ملک میں بیروزگاری کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے تاہم کورونا کی وباء سے ہونے والے معاشی جمود کا بھی اس میں بڑا ہاتھ ہے۔عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف نے اپنی ورلڈ اکنامک آوٹ لک رپورٹ 2019 میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان کی معیشت سست روری کا شکار ہے جس سے بیروزگاری میں اضافے کا امکان ہے۔ مالی سال 2017-18 میں ملک میں بیروزگاری کی شرح5.7 فیصد تھی، مالی سال 2018-19میں 6.1 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2019-20میں بیروزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوا۔حکومت نے مالی سال 2020-21 میں بیروزگاری کی شرح 9.56 فیصدتک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2017-18 میں ملک میں بیروزگارافراد کی تعداد 3.79 ملین تھی، مالی سال 2018-19 میں 4.78 ملین جبکہ مالی سال 2019-20 میں 5.8 ملین افراد بیروزگار تھے۔ رواں مالی سال میں بیروزگار افراد کی تعداد 6.65 ملین تک پہنچ جائے گی۔ ان حالات کے پیش نظر تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ دور دور تک حقیقت کی شکل اختیار کرنا نظر نہیں آ رہا۔

ملازمت کے مواقع فراہم کرنے سے متعلق حکومت کی امیدیں نجی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایک موقع پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا تھا کہ عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگے، روزگار دینا حکومت کا نہیں نجی شعبے کا کام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت400 محکموں کو بند کرنے پر غور کر رہی ہے، حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی۔ اسی بات کا تذکرہ 15 نومبر کو امن و ترقی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی کیا تھا جن کے مطابق حکومت محض پالیسی ساز ہے، لاکھوں نوکریاں نہیں دے سکتی۔ لہٰذا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ صرف ایک سیاسی نعرہ تھاجس کو عملی جامع پہنانے کیلئے تحریک انصاف کے پاس واضح پالیسی نہیں تھی۔نوجوانوں کو قرضے دینے کے حوالے سے حکومت نے ’کامیاب جوان‘ پروگرام متعارف کروایا ہے۔ 17اکتوبر 2019 کو وزیراعظم عمران خان نے ’کامیاب جوان‘ پروگرام کا افتتاح کیا۔اس اسکیم کے ذریعے نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے جس کی حد پہلے 50 لاکھ روپے تک تھی جسے رواں سال بڑھا کر ڈھائی کروڑ کردی گئی ہے۔اس اسکیم کیلئے حکومت نے 100 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں سے 25ارب روپے صرف خواتین کیلئے رکھے گئے ہیں۔اس پروگرام کے دوسرے فیز کی رجسٹریشن شروع ہوچکی ہے تاہم پہلے فیز میں رجسٹرڈ افراد کو ابھی تک قرضے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

ایف بی آر میں اصلاحات

اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ

پی ٹی آئی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کیلئے مضبوط ٹیکس پالیسی متعارف کروانے اورٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے دعوے تو کیے مگر زمینی حقائق کوئی اور منظر پیش کر رہے ہیں۔ ایف بی آر مسلسل بجٹ میں مقررہ ٹیکس اہداف مکمل کرنے میں ناکام ہوا ہے۔

مالی سال 2019-20 کیلئے ٹیکس آمدن کا ہدف 5 ہزار 503 ارب روپے رکھا گیا تھا لیکن معاشی شرح نمو میں کمی اور ایف بی آر کے اپنے ماہانہ اہداف سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے سالانہ ہدف میں نظرثانی کی گئی اور آئی ایم ایف کی مشاورت سے ہدف کم کرکے 5 ہزار 270 ارب کا ہدف متعین کیا گیا۔ معاشی حالات میں مسلسل ابتری کی وجہ سے سالانہ ہدف پر دوسری بار نظرثانی کر کے 48 سو ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا۔ جنوری کے بعد پہلے عالمی سطح پر اور پھر ملک میں کورونا کی وباء پھیلنے کی وجہ سے معاشی حالات مزید ابتر ہوگئے۔ ٹیکس آمدن کے سالانہ ہدف پر تیسری دفعہ بھی نظر ثانی کی گئی اور اصل ہدف سے 1 ہزار595 ارب روپے کم کر کے 3 ہزار 908 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا۔ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2019-20 میں 3989 ارب روپے اکھٹے کیے گئے جو کہ ابتدائی طور پر مقررہ ہدف سے 1514 ارب روپے کم رہا۔

چیئرمین ایف بی آر کی مستقل تعیناتی کے حوالے سے حکومت مسلسل تذبذب کا شکار رہی ہے اور گزشتہ دو سال کے دوران ایف بی آر کے چار چیئرمین تبدیل کر چکی ہے۔یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ حکومت ادارے کے ڈھانچے میں تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے اور فقط شخصیات کے ذریعے اس ادارے کو چلانا چاہ رہی ہے۔ماہرین معاشی امور کے مطابق ادارے کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونا اور ٹیکس وصولی کے غیر حقیقی ٹارگٹ ادارے کی کمزور کارکردگی کی اہم وجوہات ہیں۔ حکومت کا ادارے میں ٹیکنالوجی کے حساب سے جدت لانے اور ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار ٹھیک کرنے کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر اشرت حسین نے وفاقی کابینہ کو حالیہ دی جانے والی بریفنگ میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ایف بی آر کیلئے ٹیکس مشینری کے نئے ڈھانچے کو متعارف کرانے میں وقت لگے گا۔

عوام کو نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلدیاتی نظام کے ذریعے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کر کے عوام کی براہ راست خدمت کی جاسکتی ہے اور ان کے مسائل کا زیادہ بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے پاکستان میں چھوٹے شہروں اور دیہات میں ترقیاتی کام ایم این ایز ،ایم پی ایز اور بیوروکریسی سے منتقل کر کے تمام وسائل اور فیصلہ سازی دیہی کونسلز جیسی نچلی سطح تک منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ساتھ ہی سٹی گورنمنٹ ماڈل بھی متعارف کروایا جانا تھا،جہاں عوام کے ووٹوں سے براہ راست منتخب ہونے والے میئر نے شہری امور کی انجام دہی کرنا تھی۔ تحریک انصاف نے سب سے پہلے پنجاب صوبے کے فعال بلدیاتی نظام کا بوریا بستر لپیٹ کر گھر بھیج دیا اور ضلع انتظامیہ کو ذمہ داریاں سونپ دیں جس کیلئے قانونی اختیار موجود تھا۔ 30 اپریل 2019 کو تحریک انصاف حکومت نے پنجاب لوکل گورنمنٹ 2019 اور پنجاب ولیج پنچائیت اور نیبرہوڈ کاؤنسلز 2019 کے بل صوبائی اسمبلی سے منظور کروادئیے ۔نئے بلدیاتی نظام کے تحت دیہات میں تحصیل اور پنچایت کونسلیں جبکہ شہروں میں میٹروپولیٹن اور میونسپل کارپوریشن اورنیبرہوڈ کونسلیں بنیں گی۔ شہری اور تحصیل کونسلز کے انتخابات جماعتی اور نیبرہوڈ کونسلز، پنچایت کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔یاد رہے کہ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا تھا جس کو بڑی حد تک پذیرائی بھی ملی تاہم وہاں ایک بار پھر تبدیل کر کے پنجاب جیسا ہی نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا گیا ہے۔4 مئی 2019 کو گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد پنجاب کے بلدیاتی ادارے تحلیل ہوگئے اور 58 ہزار بلدیاتی نمائندوں کو گھر بھیج دیا گیا۔ ایک سال کے اندر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروائے جانے تھے تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔25 جون 2020 کو الیکشن کمیشن نے پنجاب میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے مطابق صوبے کے36 اضلاح میں آٹھ مرحلوں میں 6 جولائی سے 13 اکتوبر تک حلقہ بندیاں مکمل کی جائیں گی۔ حکومت کو پنجاب میں جلد بلدیاتی انتخابات کروانے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے سابقہ لوکل باڈیز کو تحلیل کرنے کے حکومتی اقدام کے خلاف درخوست منظور کر لی ہے اور سماعت جاری ہے۔

سول سروسز کی اصلاح

پی ٹی آئی کے منشور میں سول سروس کو سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر پاک اور قابلیت،اہلیت اور پیشہ ورانہ مہارت سے مزین نظام میں تبدیل کرنا شامل تھا۔اس کے علاوہ صحیح کام کیلئے درست افسر کا انتخاب،مدت ملازمت کا تحفظ فراہم کرنا،اندرونی طور پر احتساب کا نظام لانا اور کارکردگی پرکھنے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں پر نظرثانی کرنا بھی اس اصلاحاتی ایجنڈے میں شامل تھا۔ تاہم دو سال بعد حکومت صرف سول سروسز ریفارمز کا مجوزہ مسودہ تیار کر پائی ہے۔اس مسودہ میں سول سروس کی ریکروٹمنٹ، پروموشن، پرفارمنس اور ریٹائرمنٹ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مسودے میں جہاں دیگر نقائص کی نشاندہی کی گئی ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی اکثریت اپنے کام کرنے کے ماحول سے مطمئن نہیں، انہیں مشاہرہ خراب مل رہا ہے، سیاسی مداخلت زیادہ ہے، جبکہ ہر آئے دن تقرری و تبادلے بھی ہوتے ہیں جن سے ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔عملی طور پر دیکھا جائے تو حکومت جس رفتار سے پنجاب کی بیوروکریسی میں تقرریاں و تبادلے کر رہی ہے اس کے مطابق اصلاحات کیلئے درکار اقدامات اٹھانے کے حوالے سے غیرسنجیدہ تاثر مل رہا ہے۔

غربت کی چکی میں پستے اضلاع
سے مفلسی کا خاتمہ

غربت پاکستان کے وجود میں بری طرح سرایت کر چکی ہے اور آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔پاکستان میں بڑھتی غربت ناقص حکمرانی اور سست معاشی نمو کا نتیجہ ہے۔پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے کے بعد پسماندہ اور مفلس ترین اضلاع سے غربت میں کمی لانے کا اعلان کیا تھا،مگر اعدادوشمار تحریک انصاف کے دعوے کے برعکس ہیں۔تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل ملکی آبادی کا 31 فیصد حصہ یا 69 ملین افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے، اور یہ تعداد 2019 میں 40 فیصد تک جا پہنچی۔یوں پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال میں ہی مزید 18ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔رہی سہی کسر کورونا وائرس کے باعث معاشی سست روی اور لاک ڈاؤن نے پوری کر دی جس کے سبب بیروزگاری میں مزید 18ملین لوگوں کا اضافہ ہوا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے معیار کے مطابق پاکستان میں شرح غربت 60 فیصد کوعبور کر چکی ہے۔مزید یہ کہ پاکستان کی انسانی ترقی کی شرح 0.55 فیصد ہے جو جنوبی ایشیا میں نچلی ترین شرح ہے۔

کراچی کی اصلاح

کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے، تاہم گزشتہ دو دہائیوں سے بد انتظامی اور عدم توجہی کا بدترین شکار ہے۔کراچی کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے یعنی ایک مربع کلومیٹر میں 20ہزار شہری بستے ہیں، جبکہ انفراسٹرکچر تباہ حال اور فرسودہ ہے ، جس کا اندازہ حالیہ مون سون سیزن کے دوران سامنے آنے والی صورتحال سے لگایا جاسکتا ہے۔پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے بعد کراچی کی عوام کو رہائش،ماس ٹرانزٹ،پانی و نکاسی آب کی سہولیات کی فراہمی اور بڑے پیمانے پر انتظامی اصلاحات کے ذریعے کراچی کو صحیح معنوں میں میگا سٹی میں بدلنے کا عزم کیا تھا۔تاہم ،یہ عزم فی الحال حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ تحریک انصاف کو کراچی سے قومی اسمبلی کی 13 اور صوبائی اسمبلی کی 21 نشستیں ملی ہیں، جبکہ میئر کراچی کا تعلق بھی تحریک انصاف کی اتحادی جماعت سے ہے۔اس سب کے باوجود تحریک انصاف کراچی کی حالت سنوارنے میں تاحال ناکام رہی ہے جس کے باعث کراچی شہر مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ کراچی کے بڑے انتظامی مسائل کے حوالے سے کیسز سپریم کورٹ میںزیر سماعت ہیں جو کہ انتظامی امور کی سنگین صورتحال کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی حالیہ سماعت میں کراچی کے مسائل پر اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کے حوالے سے وفاقی حکومت مختلف آئینی اور قانونی پہلوں پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے جس کی تفصیل ابھی نہیں بتائی جاسکتی۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی اس حوالے واضح کیا تھا کہ وفاقی حکومت کراچی کیلئے ٹھوس فریم ورک بنارہی ہے، اگر سندھ حکومت سے فریم ورک پر اتفاق نہ ہوا تو سخت کارروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔