تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم کا عمران خان کےمریم نوازسے متعلق بیان پر ردعمل
  • بریکنگ :- مریم نوازکیخلاف زبان درازی پر خواتین سمیت پوری قوم مذمت کرے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- کم ظرفی کےاظہار سے عمران خان کےجرائم چھپ نہیں سکتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مسجدنبویؐ کی بےحرمتی کرنےوالوں سےعزت وتکریم کی کیاتوقع ہوسکتی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ایک جماعت کےسربراہ کےطور پر بدتہذیبی کےپاتال میں جاگراہے،شہبازشریف
  • بریکنگ :- قوم بنانے نکلےتھے اورقوم کےاخلاق کوہی بگاڑدیاہے،شہبازشریف

آزادی اظہاررائے کی آڑ میں کسی مذہب کی توہین ناقابل برداشت ہے:وزیراعظم عمران خان

Published On 10 November,2020 04:45 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی مذہب کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ اس وقت دنیا کو بین المذاہب ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کورونا وائرس سے پانچ کروڑ سے زائد افراد جبکہ پوری دنیا کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اثر ورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وبائی مرض سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ مکمل لاک ڈاؤن ناصرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک کیلئے نقصان دہ ہے۔ کورونا کے باعث پوری دنیا کی معیشت سست روی کا شکار ہے۔ اس بحران میں عالمی مالیاتی اداروں کوغریب ممالک کی مدد کرنی چاہیے۔

وزیراعظم نے کورونا وائرس کیخلاف ہمسایہ اور دیرینہ دوست ملک چین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جانب سے اقدامات اور امداد کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کورونا ویکسین کے ٹرائل پر بھی کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے دنیا کی توجہ افغانستان میں قیام امن اور خطے میں امن کی صورتحال کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اس اہم معاملے پر تمام فریقین اور عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کو عالمی حل طلب مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس، وزیراعظم عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک

خیال رہے کہ روس کے زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ پاکستان کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کی موجودہ رکنیت میں چین، روس، ہندوستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم مقاصد میں رکن ممالک کے مابین باہمی اعتماد اور خوشگوار دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا، علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو مستحکم کرنا، سیاسی، ثقافت، تجارت، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، نقل و حمل، سیاحت، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔

ممبر ممالک کے ساتھ ہمارے گہرے جڑوں والے تاریخی اور ثقافتی روابط کو مزید تقویت دینے، ان تعلقات کو ایک مستحکم معاشی بنیاد فراہم کرنے، علاقائی تجارت اور راہداری کے طور پر پاکستان کو فروغ دینے کیلئے ایس سی او ایک اہم فورم ہے۔

2017ء میں ممبر بننے کے بعد سے پاکستان مختلف ایس سی او میکانزم میں شرکت کے ذریعہ ایس سی او کے کثیر الجہتی ایجنڈے کو فروغ دینے میں سرگرمی سے حصہ لے رہا ہے۔