تازہ ترین
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی تحریری رائے جاری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کی تحریری رائے 8 صفحات پرمشتمل ہے
  • بریکنگ :- اسلام آباد:رائے تین ،دو کےتناسب سے دی گئی
  • بریکنگ :- جسٹس مندوخیل اورجسٹس مظہرعالم نے اختلاف کیا
  • بریکنگ :- صدارتی ریفرنس اکثریتی رائےسےنمٹایاگیا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی پرپارلیمنٹ قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- اس حوالےسےقوانین کوآئین میں شامل کرنےکامناسب وقت ہے،تحریری رائے
  • بریکنگ :- پارلیمنٹ مسئلے کے حل کیلئے قانون سازی کرے، تحریری رائے
  • بریکنگ :- آرٹیکل 63اےسیاسی جماعتوں کوتحفظ فراہم کرتاہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کرناان کی بنیادوں کوہلانےکےمترادف ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کےذریعےہی سیاسی جماعتوں کوغیرمستحکم کیاجاتاہے،اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- کسی رکن کومنحرف ہونےسےروکنےکیلئےموثراقدامات کی ضرورت ہے، اکثریتی رائے
  • بریکنگ :- منحرف ارکان کی تاحیات نااہلی کےمعاملےپرقانون سازی کی جائے،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- کسی منحرف رکن کاپارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ شمارنہیں ہوگا،سپریم کورٹ
  • بریکنگ :- پارٹی پالیسی کےخلاف جانےوالےرکن کاووٹ مستردتصورہوگا،سپریم کورٹ

لاہور میں 22 دن بعد میٹرو اور سپیڈو بس سروس بحال، نوٹیفکیشن جاری

Published On 21 April,2021 09:30 am

لاہور: (دنیا نیوز) لاہور میں 22 دن بعد میٹرو اور سپیڈو بس سروس بحال کر دی گئی۔ محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ نے مراسلہ جاری کر دیا۔ اورنج ٹرین کی بحالی سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔

کورونا وائرس کی تیسری لہر میں جزوی لاک ڈاؤن کے سبب شہر لاہور میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کو 30 مارچ کو بند کیا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن میں اورنج ٹرین، میٹرو بس، سپیڈو بس سروس مکمل طور پر بند رہی۔ ماس ٹرانزٹ سسٹم لاک ڈاؤن کے سبب 22 دن تک بند رہی۔ سپیڈو بس کے 17 روٹس کو معطل رکھا گیا۔ سپیڈو بس سروس کی 200 بسیں متعلقہ لاری اڈوں پر کھڑی رہیں۔

شاہدرہ سے گجومتہ چلنے والی میٹرو بس سروس بھی معطل رکھی گئیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران میٹرو بس کے سٹیشنز پر ٹکٹنگ کا نظام بند رہا۔ میٹرو بس ٹریک پر چلنے والی 67 بسیں گجومتہ بس ڈپو میں کھڑی رہیں۔ اورنج ٹرین کی سروس کو بھی 22 روز تک کورونا کے بڑھتے کیسز کے مدنظر بند رکھا گیا۔

22 روز میں ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو کرائے کی مد میں 12 کروڑ 5 لاکھ روپے خسارہ ہوا۔ میٹرو بس کی بندش سے اتھارٹی کو 7 کروڑ 92 لاکھ روپے نقصان ہوا جبکہ میٹرو اورنج ٹرین کی بندش سے اتھارٹی کو 4 کروڑ 13 لاکھ 60 ہزار روپے آمدن کی مد میں خسارے ہوا۔