تازہ ترین
  • بریکنگ :- مقتول صحافی حسنین شاہ اورعامربٹ میں رقم کاتنازع تھا،سی سی پی او
  • بریکنگ :- عامربٹ نےبھائی سےمل کرحسنین شاہ کےقتل کامنصوبہ بنایا،فیاض احمد
  • بریکنگ :- عامربٹ کےبھائی اور 2شوٹرزکوبھی جلدگرفتارکرلیں گے،فیاض احمد
  • بریکنگ :- حسنین شاہ کوقتل کرنےکیلئےشوٹرزکاانتظام کیاگیا،سی سی پی اولاہور
  • بریکنگ :- تفتیش شفاف ہوگی،کسی سےرعایت نہیں کی جائےگی،فیاض احمد
  • بریکنگ :- ہم سب سےپہلےملزم حیدرشاہ تک پہنچے،سی سی پی اولاہور

گروپ کی جلد وزیراعظم سے ملاقات کی یقین دہانی کرائی گئی: جہانگیر ترین

Published On 22 April,2021 08:50 am

لاہور: (دنیا نیوز) جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ عمران خان سے دیرینہ تعلق ہے، خان صاحب سے ایسا رشتہ ہے جو کمزور نہیں ہونا چاہیئے، جلد وزیراعظم سے ملاقات ہو جائے گی، گروپ کی جلد وزیراعظم سے ملاقات کی یقین دہانی کرائی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر بے بنیاد ایف آئی آرز بنائی گئی ہیں، سول کیس کو فوجداری میں تبدیل کر دیا گیا، عدالت سے انصاف ضرور ملے گا، (ن) لیگ نے اپنے دور میں مجھے ٹیکس نوٹسز بھیجے، ہم کسی کمیٹی سے نہیں، وزیراعظم سے ملیں گے، پورے گروپ نے کہا وزیراعظم ہماری بات سنیں اور ملاقات کریں۔

دوسری جانب سیشن کورٹ نے شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے کیس میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 3 مئی تک توسیع کر دی۔

سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ جہانگیر ترین اور علی ترین نے حاضری مکمل کروائی۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جہانگیر اور علی ترین شامل تفتش ہو رہے ہیں، ہم تفتش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں، جو الزامات ہیں اس میں سرخرو ہونگے، دونوں مقدمات میں تمام تر الزامات کا ریکارڈ فراہم کر رہے ہیں، امید ہے آنے والے دنوں میں ایف آئی اے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے گا۔

ایف آئی اے کے تفتشی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام الزامات پر تفتش کر رہے ہیں، ملزمان کا نامکمل ریکارڈ کمرہ عدالت میں موجود ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ فائل تفتشی کے حوالے کر دی۔ فاضل جج نے حکم دیا کہ انکوئری کی مکمل رپورٹ کہاں ہے، اس کو بھی پیش کیا جائے۔ تفتشی نے کہا کہ انکوئری رپورٹ خفیہ ہوتی ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ ملزمان کی آئندہ سماعت پر انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

یاد ر ہے جہانگیر ترین اور علی ترین کے خلاف ایف آئی اے حکام نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔