تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکستان میں اچھی گورننس کی ضرورت ہے، مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- بری گورننس سکیورٹی رسک پیداکررہی ہے،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- شہرقائدمیں روزانہ اربوں روپےکاپانی چوری ہوتاہے،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- شہرقائدمیں غریب اورامیردونوں پانی خریدکراستعمال کررہےہیں،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- مہنگائی میں ہوشربااضافہ ہوگیاہے،چیئرمین پی ایس پی مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- اوگراایک روپیہ 35 پیسےپٹرول کی قیمت بڑھانےکی سفارش کرتاہے،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- وزیراعظم صاحب پٹرول کی قیمت میں 5 روپےاضافہ کردیتےہیں،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- سندھ میں 29ہزارروپےمیں اسکول کاایک ڈیسک تیارکیاگیا،مصطفیٰ کمال
  • بریکنگ :- 10اکتوبرکولیاقت آباد میں احتجاجی جلسہ ہوگا،مصطفیٰ کمال

آزاد کشمیر الیکشن، 45 انتخابی نشستوں کیلئے 32 لاکھ سے زائد ووٹرز نمائندے چنیں گے

Published On 23 July,2021 08:33 am

لاہور: (دنیا نیوز) آزاد کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں 45 انتخابی نشستوں کے لئے 32 لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے، مختلف جماعتوں نے بڑے سیاسی پہلوان بھی اکھاڑے میں اتار دیئے۔

آزاد کشمیر میں 25 جولائی کے عام انتخابات کی بازی مارنے کے لئے میدان سج چکا ہے، تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں کے امیدواران سیاسی حریفوں کو چت کرنے کے لئے زور آزمائی کررہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں کے لئے 32 لاکھ 20 ہزار 546 کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان اور آزاد کشمیر کے شہری خفیہ رائے دہی کے ذریعے 742 امیدواران میں سے نمائندگان کا انتخاب کریں گے۔

ریاستی انتخابات میں متعدد اہم سیاسی شخصیات بھی اپنا زور دکھائیں گی، وزیر اعظم آزاد کشمیر لیپہ اور چکار، پی ٹی آئی کے صدر و سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود میرپور، تنور الیاس باغ، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق دھیرکوٹ باغ، سابق صدر و وزیراعظم سردار یعقوب راولاکوٹ جبکہ پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر کھاوڑہ مظفرآباد سے بطور امیدوار انتخابات کا حصہ ہوں گے۔

آئندہ پانچ سالوں کے لئے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کوٹلی کے دو حلقوں سے، اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نیلم کے حلقہ شاردہ،اور سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق بھمبھر سے سیاسی قسمت آزمائی کریں گے۔

انتخابات میں جہاں پیپلز پارٹی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے مابین جہاں کانٹے دار مقابلہ ہوگا وہیں مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے بلے کو دیگر جماعتوں پر پہلے ہی سے نفسیاتی برتری برتری حاصل ہے۔