تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

'ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا جائیگا'

Published On 29 July,2021 11:57 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اسد عمر نے کہا ہے کہ ویکسین نہ لگوانے والوں کو دکانوں، دفاتر اور ہوٹلوں میں کام کرنے نہیں دیا جائے گا، ان کے لیے ویکسین لگوانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے، جس کے بعد ان پر پابندی عائد ہوگی۔

 وفاقی وزیر اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) سربراہ اسد عمر نے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مختلف شعبوں کے لیے ویکیسینیشن کی آخری تاریخ 31 اگست رکھی گئی ہے، وہ تمام افراد جن سے دوسرے اثرانداز ہو سکتے ہیں ان کے لیے ویکسین لگوانے کی آخری تاریخ 31 اگست ہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ تمام تعلیمی اداروں کی ٹرانسپورٹ سے جڑے افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازمین، ہوٹلوں، دکانوں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں کام کرنے والوں نے اگر 31 اگست تک ویکسین نہ لگوائی تو انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو اساتذہ ویکسی نیٹڈ نہیں وہ یکم اگست سے سکولوں میں نہیں پڑھا سکیں گے، یکم اگست سے صرف ویکسی نیٹڈ لوگ ہوائی جہاز پر سفر کرسکیں گے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کئی لوگ اب بھی کورونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے، سندھ حکومت کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، چاہتے ہیں کسی کا روزگار متاثر نہ ہو، ملکی معیشت چلتی رہے، ملک بند کر کے وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتے، کورونا سے بچنے کا واحد حل صرف احتیاط ہے، سندھ اور بلوچستان میں ایس او پیز پر زیادہ عمل نہیں ہو رہا۔

قبل ازیں معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا کی شرح میں اضافہ ہوا، 24 گھنٹے میں تشویشناک مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی، کراچی میں وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ نظر آ رہا ہے، کیسز میں اضافے سے ہسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔