تازہ ترین
  • بریکنگ :- چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
  • بریکنگ :- منی بجٹ تیارہوچکاہے، حکومت کہےگی توپیش کردیں گے،چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- سیلز ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جارہی ہے ، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- لگژری اشیا کی درآمدات پر ٹیکس لگائے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- درآمدی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس کی سفارش ہے، چیئرمین ایف بی آر
  • بریکنگ :- کھانے پینے کی اشیا اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقراررہےگی، چیئرمین ایف بی آر

کورونا جیسا موضوع آپ نہیں سمجھتے، سیاست نہ کریں: اسد عمر کا بلاول کو جواب

Published On 31 July,2021 09:12 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو صاحب کورونا وائرس کی صورتحال پر سیاست نہ کریں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے لاک ڈاؤن کے حوالے سے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹویٹر پر لکھا کہ بلاول بھٹو صاحب آپ نے گزشتہ سال مجھے ایک میٹنگ میں بتایا تھا کہ ملک میں ایک دن میں 78 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے آپ بالکل نہیں سمجھتے۔ برائے مہربانی کورونا وائرس پر سیاست نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے باعث اگر کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوتی ہے تو اس کے ذمے دار عمران خان ہوں گے۔

اپنے ٹویٹر پر وفاقی وزیر اسد عمر نے متواتر بار لکھا کہ بلاول صاحب آپ لاک ڈاؤن چاہتے ہیں، لیکن ایسا کرنے پر بھارت کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا، ساری دنیا نے بھارت میں ہونے والی تباہی دیکھی۔ لاک ڈاون کے اثرات سے ابھی تک بھارت کی معیشت نہیں سنبھل سکی اور 7 فیصد تک سکڑ گئی۔کروڑوں لوگ غربت میں چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی پالیسی انسانی جانیں اور روزگار دونوں بچانا ہے، عمران خان کی پالیسی کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔کورونا سے بھارت میں اموات پاکستان سے 3 گنا زیادہ ہیں لیکن پاکستان کی معیشت میں 4 فیصد بہتری آئی ہے۔

ایک اور ٹویٹ میں اسد عمر نے کہا ہے کہ امید ہے کل این سی او سی کے اجلاس میں سندھ حکومت لاک ڈاؤن سے متعلق معاملات پر تفصیل میں مشاورت کرے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے لکھا کہ جو سندھ میں صنعت اور ٹرانسپورٹ کی بندش کے بارے میں فیصلے کے گئے ہیں ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہم نے کل بھی اور اج بھی اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کیا تھا، جس کی بنیاد پر جزوی تبدیلی کی گئ ہے، جو خوش آئند ہے لیکن ابھی بھی مزید ترمیم کی ضرورت ہے۔

اسد عمر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ امید ہے کہ کل این سی او سی کے اجلاس میں سندھ حکومت ان تمام معاملات پر مزید تفصیل میں مشاورت کرے گی اور مشاورت سے ایسی حکمت عملی وضع ہو گی جس میں ریاست کے سب ستون مل کر سندھ کے عوام کی صحت اور روزگار دونوں کا دفاع کریں۔

دوسری طرف این سی او سی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے کورونا پھیلاؤ کےمدنظر31 جولائی سے8 اگست تک پابندیوں کا نفاذ کیا، وفاق کے زیر انتظام بعض سیکٹرز بھی ایس او پیز کے تحت کام کرتے رہیں گے۔

این سی او سی کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشن معمول کے مطابق پہلے سے وضع کردہ ایس او پیز کے مطابق جاری رہیں گے، ریلوے 70 فیصد مسافروں کے ساتھ اپنا آپریشن جاری رکھے گی، وفاق کے زیرانتظام دفاترمیں عملے کی تعداد کم سے کم اور ایس او پیزکے مطابق فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی ہے، پاکستان سٹاک ایکسچینج اور اس سے متعلقہ سروسز معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گی۔