تازہ ترین
  • بریکنگ :- قانونی ٹیم نےحمزہ شہبازکواستعفیٰ نہ دینےکامشورہ دےدیا
  • بریکنگ :- حمزہ شہبازکسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے،ذرائع قانونی ٹیم
  • بریکنگ :- تفصیلی رائےآنےکےبعدمزیدمشاورت کی جائےگی،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازسےقانونی ٹیم کی ملاقات

مینارپاکستان پرخاتون سے بدسلوکی،4روز گزر گئے پولیس ملزموں تک پہنچنے میں ناکام

Published On 18 August,2021 09:29 pm

لاہور: (دنیا نیوز) مینار پاکستان پر خاتون کیساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کو چار روز گزر گئے ہیں، پولیس ملزموں تک پہنچنے میں ناکام ہو گئی ہے، شرمناک واقعہ کی ویڈیو بھی موجود ہیں، تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں تاہم اسکے باوجود ایک بھی شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ حکام صرف بیانات اور دعوؤں تک محدود ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا، آئی جی پنجاب سے تفصیلات طلب کر لیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں مینار پاکستان پر خاتون کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جسکے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

14 اگست کے روز لاہور میں پیش آنے والے واقعے کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کیسے تین سے چار سو افراد پر مشتمل ہجوم لڑکی پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہراساں کرتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی کو مدد کے لیے چیخ و پکار کرتے بھی دیکھا اور سُنا جا سکتا ہے۔

لاہور پولیس نے مقدمے کے اندراج اور اس میں سخت دفعات کا اضافہ کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ کیس میں ویڈیو کلپس کے سہارے سے ملزمان تک پہنچا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، رپورٹ طلب 

دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے مینار پاکستان واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے خاتون سے دست درازی کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے آئی جی پنجاب سے رابطہ کیا، انعام غنی نے عمران خان کو واقعے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور اب تک کی تفتیش سے متعلق بریف کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ پولیس واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی کر رہی ہے۔

انہوں نے رنجیت سنگھ کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے واقعے کی جانب بھی اشارہ کیا کہ ان جرائم میں ملوث افراد کو کسی بھی صورت چھوڑا نہیں جا سکتا۔

متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کیلئے آخری حد تک جائیں گے: وزیراعلیٰ پنجاب

اُدھر ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ خاتون سے دست درازی کے شرمناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں ملوث تمام افراد کی نادرا اور ویڈیو فوٹیجز کے ذریعے نشاندہی کروائی جا رہی ہے-

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ نادرا کا عملہ چھٹی کے دن بھی ان افراد کی شناخت کےعمل میں مصروف ہے، متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔

مینار پاکستان واقعہ، ملزمان کیخلاف گھیرا تنگ

مزید برآں مینار پاکستان میں خاتون پر تشدد اور دست درازی کرنے والے ملزمان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے چئیر مین نادرا محمد طارق ملک سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ملزموں کی فوری شناخت کرکے انکے شناختی کارڈ مانگ ہیں۔

گریٹر اقبال پارک میں خاتون پر تشدد اور دست درازی کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب نے چئیر مین نادرا سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔ ملزموں کی شناخت کا عمل فوری شروع کرنے کیلئے کہا۔

چیئرمین نادرا کو ملزمان کی شناخت کے لیے ان کی تصاویر پولیس نے بھجوا دی گئی ہیں۔ نادرا کا عملہ چھٹی کے باوجود ملزموں کی شناخت کے عمل میں مصروف ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف تمام ثبوت اور شواہد اکٹھے کر کے انہیں گرفتار کیا جائے گا تاکہ ملزمان سزاؤں سے سے نہ بچ سکیں۔ ملزمان کے خلاف دفعہ 354-Aت پ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو سخت سے سخت سزائیں دلوائی جائیں گی۔ آئی جی پنجاب کی سی سی پی او لاہوراور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو مقدمہ کی براہِ راست نگرانی کا بھی حکم دے دیا ہے ۔

خواتین کوعدم تحفظ کےاحساس کےساتھ نہیں چھوڑسکتے: اسد عمر
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ مینارپاکستان پرخاتون کوہراساں کرنے کا واقعہ افسوسناک ہے۔ ہمیں معاشرے کے اس شرمناک چہرے سے متعلق سوچناچاہیے۔ خواتین کوعدم تحفظ کےاحساس کےساتھ نہیں چھوڑسکتے۔
 

ملزمان کیخلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی: شہباز گل

معاون خصوصی وزیر اعظم ڈاکٹر شہباز گل نے کہاہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو پولیس گرفتار کر کے سخت ترین کارروائی کرے گی، پولیس ویڈیوز کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر رہی ہے۔

گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ خاتون پر تشدد میں ملوث افراداپنے انجام سے بچ نہیں سکیں گے،ترجمان حکومت پنجاب فیاض الحسن چوہان نے متاثرہ لڑکی سے فون پر رابطہ کرلیا ،فیاض الحسن چوہان کاکہناہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان قانون کے شکنجے سے بچ نہیں سکیں گے۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا بھی اظہار تشویش

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی واقعہ پر اظہار تشویش کیا ، شہبازشریف کاکہناہے کہ خاتون کو ہراساں کرنا تشویش ناک ہے، اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جارہا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کاکہناہے کہ نوجوان لڑکی سے ہوئے واقعے کے بعد پاکستانی خواتین خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہی ہیں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خواتین کے تحفظ اور مساوی حقوق کو یقینی بنائیں۔

مینار پاکستان واقعہ، بطور والدین، استاد نوجوانوں کی ذہن سازی کرنی چاہیے: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے مینار پاکستان کے واقعے کے بعد کہا ہے کہ ہمیں بطور والدین، استاد اور رہنما نوجوانوں کی ذہن سازی کرنی چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ لاہور کے مینار پاکستان پر دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے۔ واقعہ کے بعد ہمیں اجتماعی طور پر سوچنا ہو گا، ہمیں بطوروالدین،استاد اور رہنما نوجوانوں کی ذہن سازی کرنی چاہیے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایاجائے، مستقبل میں ایسےواقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات ضروری ہیں۔

تمام افراد کو ٹریس کر رہے ہیں: فیاض الحسن چوہان

ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے بھی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملزمان کی کچھ تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ گریٹر اقبال پارک واقعے میں ملوث ان کرداروں کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دی گئی ہے۔ پولیس حکام نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی مدد سے سائنٹفک طریقے سے ان سمیت تمام افراد کو ٹریس کر رہے ہیں۔‘

سی سی پی او غلام محمد ڈوگر نے کہا کہ سوشل میڈیا میں واقعے کی گردش کرنے والی ویڈیوز کے ذریعے ملزمان کی شناخت کی جارہی ہے اور بڑی تعداد میں تصاویر اور ویڈیوز شناخت کے تعین کے لیے نادرا بھیجوا دی گئی ہیں۔

سی سی پی او نے 14 اگست کو پیش آنے والے واقعے کے ملزمان کی گرفتار کا حکم دیتے ہوئے بیان میں کہا تھا کہ ملزمان کو جلد ہی پکڑا جائے گا۔ جن افراد نے خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی ہے، ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

مینار پاکستان ہراسگی واقعہ: خاتون نے دکھ بھری داستان دنیا کو سنا دی
اس سے قبل ایک انٹرویو کے دوران سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کرنے والی عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ میں نے آج تک کوئی فحش ویڈیو نہیں بنائی، فحش کپڑے نہیں پہنے، واقعے والے روز میں نے مکمل کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میرے کچھ کہنے سے پہلے میرا سب کچھ اُتار دیا گیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے جنگلے اور تاروں والی جگہ پر سکیورٹی گارڈ نے رکھا تھا تاہم شہریوں کے بڑے ہجو م نے تاریں اور جنگلے توڑدیئے اور اندر گھس گئے، اس دوران میرے پاس ایک ایسی آپشن بھی آئی کہ مینار پاکستان میں موجود پانی والے تالاب میں کود جاؤں، میری ٹیم نے بھی کہا تھا کہ آپ بچ جائیں گی، میں اس لیے نہیں کودی کیونکہ وہاں پانی بہت گہرا تھا۔

خاتون کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اور میری ٹیم نے 15 پر پولیس کو کال بھی کی، پولیس کو 2 بار کال کی گئی تھی، تاہم مجھے کوئی ریسپانس نہیں ملا، میں ساڑھے 6 بجے سے لیکر 9 بجے تک ٹارچر ہوتی رہی، لوگ میرے بالوں کو کھینچتے تھے اور لوگ کہتے تھے اُٹھو ناٹک مت کرو۔

عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث لوگوں کی مجھے شکلیں یاد ہیں، میں پہچان سکتی ہوں، وہاں پر 3 سے 4 ہزار لوگ موجود تھے، ایسے لگا ساری دنیا میرے پاس آ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک عورت پاکستان اور شہر میں محفوظ نہیں ہے تو وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں ہے، مانتی ہوں کہ میں وہاں گئی ہوں، میرے دل چاہ رہا تھا کہ میں وہاں جاؤں کیونکہ میں یوٹیوبر ہوں، میں کام کے لیے گئی تھی لیکن کسی کا حق نہیں تھا مجھے مکمل طور پر برہنہ کرے۔ جب ایک عورت کو سر عام برہنہ کیا جاتا ہے تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔ کیا پاکستان کی بیٹی ہونے کی یہ سزا ہے، میں وہاں فحاشی والے کپڑے نہیں پہن کر گئی تھی، میں نے آج تک کوئی فحاش ویڈیو نہیں بنائی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں دنیا کے سامنے اگر بول رہی ہوں تو اپنے لیے نہیں بول رہی، میرے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد خان اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ کچھ ایسا کیا جائے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ کیا جاتا ہے ایسا واقعات نہ ہوں، میرا مطالبہ ہے اقبال پارک کو 14 اگست کو بند کیا جائے یا کچھ ایسا ہو کہ فیملی کے بغیر انٹری بالکل نہ ہو، آج اگر میرے ساتھ ہوا ہے تو کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

عائشہ اکرم کا کہنا تھا کہ مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا لوگ مجھ پر تشدد کیوں کر رہے تھے میرے ساتھ کھیل رہے تھے، میرے جسم پر ایسا کوئی نشان نہیں ہے جہاں پر کوئی نشان نہ ہو لیکن میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا، میں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا لوگ جانتے بھی نہیں تھے جو لوگ مجھے بچا رہے تھے وہی لوگ مجھے اچھال رہے تھے، ایک کپڑے اُتارتا تھا تو دوسرا کھینچنے کی کوشش کرتا تھا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب میں ہمت ہار گئی تھی کیونکہ میرا سانس بہت تنگ ہو رہا تھا تو اس وقت ایک بچہ آیا اس نے میرے منہ پر پانی ڈالنے کی کوشش کی لیکن میرے منہ میں پانی نہیں گیا، اسی دوران بچہ زور زور سے چیخ کر سب کو کہہ رہا تھا کہ تم لوگ پاگل ہو۔ یہ لڑکی بہت ختم ہو گئی ہے۔