تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 27 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 219 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24گھنٹےکےدوران 70 ہزار 389 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24گھنٹےمیں کوروناکےمزید7 ہزار 963 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.31 فیصدرہی،این سی اوسی

افغانستان میں قیام امن کیلئے جامع سیاسی حل کی ضرورت ہے: افغان سیاسی رہنما

Published On 19 August,2021 08:09 pm

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغانستان کے سیاسی رہنمائوں نے افغانستان میں شراکت داری پر مبنی حکومت کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ایسا سیٹ اپ ناکام ہو گا جس میں کسی ایک گروپ کو شامل کیا جائے گا۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے جامع سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

افغان وفد میں ویلیسی جرگہ کے سپیکرمیر رحمان رحمانی، سابق وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی، سابق نائب صدر محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم خلیلی، احمد ضیاء مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پدمان اور خالد نور شامل ہیں۔

وفد نے حکومت پاکستان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ وفد نے وزیراعظم، وزیر خارجہ، آرمی چیف اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس آئی لیفٹیننٹ سمیت اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقات کی۔

سابق نائب صدر محمد یونس قانونی نے وفد کے دیگر اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے بارے میں حکومت پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے جامع سیاسی حل کی ضرورت ہے۔

افغان رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان میں نیا پاکستان کے نظریے کے تحت تبدیلی نظر آ رہی ہے اور پاکستان کی قیادت ماضی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے افغانستان کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات کی خواہشمند ہے۔

افغان وفد کے اراکین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان کے دورے کے دوران ان کی پاکستان کی قیادت سے ملاقات میں افغانستان کی نئی حکومت میں تمام نسلی گروپوں کو نمائندگی دینے پر گفتگو ہوئی۔ اس کا مقصد افغانستان میں خونریزی کو بند کرنا ہے۔

وفد نے پاکستان کی قیادت کی جانب سے پرامن افغانستان کیلئے کی جانے والی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری قیادت افغانستان کے بارے میں یکساں خیالات رکھتی ہے اور وہ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔

افغان وفد کے اراکین نے کہا کہ افغانستان میں کسی ایک گروپ کی حکومت کا تجربہ ناکام ہوگا کیونکہ 1996ء میں ایسا ہوچکا ہے اور مستقبل میں اگر کسی ایک گروپ کی حکومت قائم ہوتی ہے تو وہ بھی ناکامی سے دوچار ہو گی کیونکہ افغانستان میں کئی نسلوں کے لوگ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور ترجیح خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ اظہار رائے کی آزادی اور حق رائے دہی کے حق کی حفاظت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں یونس قانونی نے کہا کہ طالبان زمین پر تو قبضہ کرسکتے ہیں لیکن لوگوں پر نہیں جب تک کہ ایک جامع حکومت نہیں بناتے جس میں تمام لوگوں کو شامل کیا جائے اور وہ اقلیتوں سمیت تمام کیمونٹیزکی حفاظت کے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔

اشرف غنی کے افغانستان سے فرار اور اس کی طرف سے مبینہ طور پر بھاری رقوم اپنے ساتھ لے جانے کے متعلق وفد نے کہا کہ کرپشن افغانستان میں معمول بن گیا تھا اور اسے اس وقت تک ختم نہیں کیا جاسکتا جب تک ملک میں تمام گروپوں پر مشتمل ایک جامع سیاسی نظام تشکیل نہیں دیا جاتا۔

وفد کے اراکین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کی طویل سرحد ملتی ہے چونکہ پاکستان خطے میں ایک اہم ملک ہے اس لئے انہوں نے اپنے دورے کا آغاز پاکستان سے کیا اور وہ اپنے مطالبے کی حمایت کیلئے بڑے وفود کے ساتھ دیگر ممالک کا بھی دورہ کرینگے۔