تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکپتن:پولیس کامحلہ سمادھانوالامیں چھاپہ،کونسلرمحمدعلی گرفتار
  • بریکنگ :- سمبڑیال:پولیس کاپی ٹی آئی رہنمااسلم گھمن کےڈیرےپرچھاپہ
  • بریکنگ :- سمبڑیال سےضلعی رہنماخلیل الرحمان گھرسےگرفتار،پولیس
  • بریکنگ :- چنیوٹ:پولیس نےپی ٹی آئی رہنمامحمدعمران کے2بھائیوں کوگرفتارکرلیا
  • بریکنگ :- اوکاڑہ:پولیس کاپی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن
  • بریکنگ :- اوکاڑہ سےپی ٹی آئی رہنماوزیراشرف کےبیٹےسمیت 10کارکن گرفتار
  • بریکنگ :- وہاڑی:سابق ممبرقومی اسمبلی طاہراقبال چودھری گرفتار،پولیس
  • بریکنگ :- بہاولپور:جنرل سیکریٹری نبیل الرحمان کےگھربھی پولیس کاچھاپہ
  • بریکنگ :- وزیرآباد:پی ٹی آئی رہنماچودھری شبیراکرم کےگھرپرپولیس کاچھاپہ
  • بریکنگ :- وزیرآباد:گھرکےملازم کوتشددکانشانہ بنایاگیا،چودھری شبیراکرم چیمہ
  • بریکنگ :- لیہ:ایم این اےملک نیاز،ضلعی صدرافتخاربابرسمیت16کارکن گرفتار،جیل منتقل
  • بریکنگ :- گجرات:پولیس کاضلعی صدرچودھری سلیم سرورجوڑاکےگھرپرچھاپہ
  • بریکنگ :- گجرات:پولیس نے12کارکنوں کوگرفتارکرلیا،ایم پی اےچودھری سلیم سرور
  • بریکنگ :- پیرمحل:پولیس کاسٹی صدراحسان ننھاکےگھرپرچھاپہ،گرفتارنہ ہوسکا
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:پولیس نےتحریک انصاف کےمتعددکارکنوں کوگرفتارکرلیا
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:پولیس کاپی ٹی آئی کےضلعی صدرکنورعمران کےگھرپرچھاپہ
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:پولیس چیئرمین انجمن تاجران ملک اسلم کےگھردیواریں پھلانگ کرداخل
  • بریکنگ :- شیخوپورہ:پولیس کااسلم بلوچ کےگارڈزپرتشدد،گھرمیں توڑ پھوڑ
  • بریکنگ :- کھاریاں:ایم این اےتاشفین صفدراورقلب عباس کےگھرپولیس کاچھاپہ
  • بریکنگ :- کھاریاں:کونسلر محمد حنیف بٹ کے گھر پرچھاپہ،بھائی گرفتار
  • بریکنگ :- گوجرانوالہ میں پولیس کاکریک ڈاؤن،پی ٹی آئی رہنماگھروں سےغائب
  • بریکنگ :- پیرمحل:پی ٹی آئی عہدیدارغلام محی الدین،فیصل جاوید،اسلم حمیدگرفتار،نامعلوم مقام پرمنتقل
  • بریکنگ :- دنیاپور:پولیس کاسابق تحصیل صدرارشدجاویدکےڈیرےپرچھاپہ
  • بریکنگ :- دنیاپور:ترین گروپ سےتعلق کی تصدیق ہونےپرگرفتارکیےبغیرواپس چلی گئی
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:پولیس کاپی ٹی آئی رہنماعثمان ڈارکےگھرپرچھاپہ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:عثمان ڈارگھرپرموجود نہیں تھے
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:پی ٹی آئی رہنمادلاوربیگ کےگھرپربھی پولیس کاچھاپہ
  • بریکنگ :- ملتان:پولیس کاپی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنوں کےخلاف کریک ڈاؤن
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:پولیس کےپی ٹی آئی رہنمامیاں شکیل اوربلال اسلم کےگھروں پرچھاپے
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:پولیس کاسابق وزیرڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کےگھرچھاپہ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:تحریک انصاف کےرہنماطاہرہندلی گھرسےگرفتار
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:پی ٹی آئی کےسابق ڈپٹی جنرل سیکریٹری عمرفاروق مائرکےگھرچھاپہ
  • بریکنگ :- سیالکوٹ:عمرفاروق مائرگھرپرموجودنہیں تھے
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی رہنماعبدالکریم کلواڑکےگھرپرچھاپہ،کوئی گرفتاری نہیں ہوئی
  • بریکنگ :- پولیس نےکیمرےتوڑےاورریکارڈنگ بھی ساتھ لےگئی
  • بریکنگ :- ملتان:پولیس نے 15سےزائدپی ٹی آئی کارکنوں کوگرفتارکرلیا
  • بریکنگ :- سابق چیئرمین پی ایچ اےحافظ ذیشان کےگھرپولیس کاچھاپہ
  • بریکنگ :- ساہیوال:پی ٹی آئی رہنماراناآفتاب،فیصل ڈھکو،چودھری آصف کےگھروں پرچھاپے
  • بریکنگ :- بہاولنگر:شوکت علی لالیکاسمیت متعددکارکنوں کےگھروں پرپولیس کےچھاپے
  • بریکنگ :- کامونکی:پی ٹی آئی رہنمارانانذیراوراحسان اللہ ورک کےگھروں پرچھاپے
  • بریکنگ :- پسرور:پولیس کاپی ٹی آئی رہنمامنورگل کےگھرپرچھاپہ

کراچی میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شہریوں میں خوف

Published On 21 August,2021 05:41 pm

کراچی: (دنیا نیوز) شہر قائد میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔ جس کے بعد شہری خوف میں مبتلا ہو گئے

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3 اعشاریہ 1 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے خوف سے لوگ گھروں، دکانوں اور دفاتر سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کراچی میں آنے والے زلزلے کی زیرزمین گہرائی 15 کلو میٹر تھی، جب کہ اس کا مرکزکراچی سے 72 کلومیٹر دور شمال مشرق میں تھا۔

زلزلے کیوں اور کیسے آتے ہیں؟

زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

پاکستان بھارتی پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور بھارتی پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔

کشمیر اور گلگت بلتستان بھارتی پلیٹ کی آخری شمالی سرحد پر واقع ہیں اس لئے یہ علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہر زون تھری میں شامل ہیں۔ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیرِ زمین بھارتی پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یا زون فور کہلاتا ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

دوسری طرف قدیم زمانے میں زلزلے سے عجیب طرح کی روايات اور کہانیاں منسوب تھیں۔ جیسے ہم نے اپنے بچپن میں سنا تھا کہ ایک بہت بڑے بیل نے زمین کو اپنے ایک سینگ پر اٹھایا ہوا ہے۔ جب وہ سینگ بدلتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

یونان کی دیومالائی کہانیوں میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کا دیوتا پوسیڈان جب اپنی برچھی زمین کو چبھوتا ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

قدیم یونانی فلاسفروں کا خیال تھا کہ زمین کے اندر گیسیں بھری ہوئی ہیں۔ جب گیسیں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہیں تو زلزلہ آ جاتا ہے۔

اٹھارہویں صدی تک نیوٹن سمیت مغربی سائنس دان اس نظریے کے حامی تھے کہ زمین کی تہوں میں موجود آتش گیر مادوں کے پھٹنے سے زلزلے آتے ہیں۔

لاس اینجلس کی ساؤتھ کیرولائنا یونیورسٹی کے ایک ماہر جان ویڈیل کہتے ہیں کہ زمین کے اندر موجود چٹانی پرتیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں اور جب وہ اپنی جگہ سے کھسکتی ہیں تو ان کے کناروں پر شدید دباؤ پڑتا ہے اور جب یہ دباؤ ایک خاص سطح پر پہنچتا ہے تو وہ زلزلے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

زلزلے کے جھٹکوں سے زمین کی سطح پر موجود چیزوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ عمارتیں اور دوسری تنصیبات گر جاتی ہیں۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں۔ درخت اور بجلی کے پول زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر متاثرہ علاقے میں دریا یا جھیلیں ہوں تو ان کی جگہ بدل سکتی ہے۔ پہاڑوں میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

اگر زلزلے کا مرکز سمندر کی تہہ یا ساحلی علاقوں کے قریب ہو تو سمندری طوفان اور سونامی آ سکتے ہیں اور بپھری لہریں ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

ہماری زمین کے بعض حصوں کے نیچے چٹانوں کی پرتیں اس نوعیت کی ہیں کہ ان میں نسبتاً زیادہ حرکت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان علاقوں میں زلزلے بھی کثرت سے آتے ہیں۔ بعض ملک اور علاقے زلزلوں کے زون میں واقع ہیں۔ ان میں نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، فلپائن، جاپان، روس، شمالی امریکہ میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقے، وسطی امریکہ، پیرو اور چلی شامل ہیں۔ اسی طرح بحرالکاہل کے کئی حصے بھی ان علاقوں میں شامل ہیں جہاں زیادہ زلزلے آنے کا خدشہ رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سوات اور گردو نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شہریوں میں خوف

ریکٹر سکیل کیا ہے؟

ریکٹر اسکیل ایک پیمانہ ہے جس سے زلزلے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریکٹر اسکیل کے موجد ایک امریکی سائنس دان چارلس ریکٹر ہیں جنہوں نے 1935 میں ایک آلہ متعارف کرایا تھا جس میں ایک سے 10 کے اسکیل پر زلزلے کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

زلزلے کی اقسام

زلزلوں کو عمومی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ریکٹر اسکیل پر چار درجے سے کم شدت کے زلزلوں کو معمولی یا کمزور نوعیت کا زلزلہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

چار سے زیادہ اور چھ سے کم درجے کا زلزلہ درمیانی شدت کا زلزلہ کہلاتا ہے، جس سے تھوڑا بہت نقصان پہنچ سکتا ہے، جیسے چینی کے برتن اور پلیٹیں وغیرہ ٹوٹ سکتی ہیں۔ جب کہ ریکٹر اسکیل پر 6 سے 7 شدت کے زلزلے عمارتوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جب زلزلے کی شدت 8 کے ہندسے بڑھتی ہے تو وہ تباہ کن شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عمارتیں ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو سکتی ہیں، سڑکیں اور ریلوے لائنیں ٹوٹ پھوٹ سکتی ہیں۔

زلزلے میں کیا کرنا چاہیے؟

زلزلے کی صورت میں فوری طور پر عمارت سے باہر کھلی جگہ پر چلے جانا چاہیے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو میز یا اسی نوعیت کی کسی دوسری چیز کے نیچے پناہ لینی چاہیے تاکہ آپ خود کو چھت یا دیواروں سے ممکنہ طور پر گرنے والے ملبے سے بچا سکیں۔ زلزلے کے دوران کھڑکیوں، بھاری فرنیچر اور بڑے آلات وغیرہ سے دور رہیں۔