تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوئٹہ اورلسبیلہ کےعلاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں بلدیاتی الیکشن آج ہوں گے
  • بریکنگ :- بلدیاتی انتخابات کےلیےبیلٹ پیپرزاورانتخابی میٹریل کی ترسیل کاعمل مکمل
  • بریکنگ :- پولنگ صبح 8بجےسےشام 5بجےتک بغیرکسی وقفےکےجاری رہےگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:7 میونسپل کارپوریشن،838یونین کونسلزمیں پولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:5ہزار345دیہی وارڈاور9ہزار14شہری وارڈکےلیےپولنگ ہوگی
  • بریکنگ :- کوئٹہ:35لاکھ52ہزار298ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے
  • بریکنگ :- کوئٹہ:20لاکھ 6ہزار274مرداور15لاکھ46ہزار124خواتین ووٹرزہیں
  • بریکنگ :- کوئٹہ:32اضلاع میں 5ہزار226پولنگ اسٹیشنزقائم
  • بریکنگ :- کوئٹہ:2ہزار54پولنگ اسٹیشنزانتہائی حساس،ایک ہزار974حساس قرار
  • بریکنگ :- الیکشن میں16 ہزار195امیدوارمدمقابل،102 امیدواربلامقابلہ منتخب
  • بریکنگ :- کوئٹہ:پولنگ اسٹیشنزپرپولیس،لیویزاورایف سی کےجوان تعینات ہوں گے

حمزہ اور میری رائے میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ہم ایک ہی ہیں: مریم نواز

Published On 27 September,2021 06:03 pm

لاہور: (دنیا نیوز) ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ پارٹی میں اختلافات ہو سکتے ہیں، حمزہ شہباز اور میری رائے میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے لیکن ہم ایک ہی ہیں، ہم دونوں متفق ہیں ہمارے گھر اور جماعت کا سربراہ صرف نوازشریف ہے۔

پارٹی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ کنٹورنمنٹ بورڈ کے الیکشن میں ڈکٹیٹر شپ کے دور سے زیادہ برے حربے استعمال ہوئے لیکن الحمد للہ ہمیں بڑی کامیابی ملی، کشمیر کے الیکشن میں ہم ٹی وی پر ہرا دیے گئے تھے، حکمران جماعت نے چھ لاکھ اور ہم نے پانچ لاکھ ووٹ لیا۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پارٹی میں اختلافات ہو سکتے ہیں، میں اور حمزہ ایک ہی ہیں۔ حمزہ کیلئے دل سے دعاگو ہیں، بہت اچھا انسان لیکن ہماری سوچ ، آرا اور طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے لیکن ہم سب اس بات پر سکہ بند حقیقت ہے اور متفق ہیں کہ ہمارے گھر اور جماعت کا سربراہ صرف نوازشریف ہے، میں دل سے شہبازشریف کی خدمات کی معترف ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 2018کے الیکشن میں ساہیوال میں صرف ایک سیٹ ہاری، میں آج بھی آپ کے چہرے پر جیت اور کمٹمنٹ کا جذبہ اور چمک دیکھ رہی ہوں، یہ چمک صرف ان چہروں پر رہتی ہے جو اپنی قیادت سے وابستہ رہتے ہیں اور اپنے نصب العین سے نہیں ہٹتے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ماضی،حال اور مستقبل مسلم لیگ(ن) ہی ہے، اگر ن لیگ نہیں تو اور کون سی جماعت ہے۔ ان کے ایک پیج پر ہونے کے باوجود انکا ایک ہی وعدہ پورا ہوا، میں قوم کو رُلاﺅں گا، ایسی حکومت بنادی ہے جو قوم کے اور ان کے ساتھ نہیں ہے، ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ اس ملک کو غلط ہاتھوں میں نہ جانے دیں، قدرت کا اصول ہے وقت ایسا جیسا نہیں رہتا اور ہم وقت بدلتا دیکھ رہے ہیں۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اس کو حکومت مل گئی لیکن عزت نہیں ملی، عزت کے اوپر حکومت بہت چھوٹا سودا ہے، اگر ہم بیانیہ اور خدمت کو ملادیں تو مسلم لیگ(ن) جیسی کوئی اور جماعت نہیں ہے، نوازشریف نے اپنے لیے نہیں ہمیشہ اس ملک اور قوم کےلئے مانگا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا زوال قریب ہے، خدا کے علاوہ زوال سب کو آنا ہے، الیکشن کمیشن پر حملے اس لیے کررہے ہیں کہ ان کے پول کھولنے کا ڈر ہے۔ الیکشن کمیشن پر غصہ صرف اپنی چوریاں چھپانے کے لئے نکالا جارہا ہے۔ آج گلی محلوں میں عوام اس حکومت بددعا سے یاد کررہے ہیں، نوازشریف نے چند افراد کی حرکات پر تنقید ادارے پر نہیں ،یہ تنقید کسی ذاتی مفاد یا غصے کی وجہ سے نہیں نظریے کی وجہ سے ہے۔

دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں بہت سارے ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جو تحریک نجات سے وابستہ ہیں، اس حکومت نے چادر چاردیواری کا تقدس پامال کیا، تھانے کچہریاں بھی ہم نے بھگتیں، 12اکتوبر کو منتخب وزیراعظم پر جھوٹا مقدمہ بناکر چلتا کیا گیا لیکن اس حکومت کا انتقام اس سے کہیں زیادہ ہے۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ماضی میں شرطیں لگاکر کہاجاتا تھا نوازشریف کو پھانسی ہو جائے گی، چوری شدہ مینڈیٹ کی حکومت نے جو انتقام لیا وہ تحریک نجات سے کہیں زیادہ ہے، لوگ پروپیگنڈے کرتے ہیں لیکن اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں میرے دادا اسی گھر میں شلوار قمیض پہن کر زمین پہ بیٹھتے تھے، ان کے ایک بیٹے کو وزیراعظم اور دوسرے کو وزیراعلیٰ پنجاب بنادیا، آپ کی ٹیم نے پاکستان کو 5.8 کی گروتھ پر چھوڑا، آئندہ الیکشن میں 2018والی غلطیوں کو نہ بھولا جائے۔