تازہ ترین
  • بریکنگ :- پنجاب میں اس وقت مضحکہ خیز تماشہ لگا ہوا ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- حمزہ شہبازکے پاس پنجاب اسمبلی میں اکثریت نہیں رہی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمام ادارےحمزہ شہبازکووزیراعلیٰ برقراررکھنےکیلئےزورلگارہےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ایک ماہ سےزائدہوگیاپنجاب میں کوئی حکومت نہیں ،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پنجاب میں اس وقت شدید انتظامی بحران ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کے فیصلےکےبعدحمزہ شہبازکاالیکشن کالعدم ہوگیاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- لاہورہائیکورٹ میں معاملےکوسنجیدہ نہیں لیا جارہا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- تمام اداروں کو آئین کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حمزہ شہباز کووزیراعلیٰ رکھنےکےلیےآئین کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےپنجاب میں ضمنی الیکشن کایکطرفہ اعلان کردیا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےسپریم کورٹ کے 90روزمیں الیکشن کرانےکےحکم کاانتظار نہیں کیا،فوادچودھری

این اے75 دھاندلی کیس: پولیس، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم ذمہ دار قرار

Published On 05 November,2021 05:32 pm

سیالکوٹ: (دنیا نیوز) این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں دھاندلی کے معاملے پر پنجاب پولیس، ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم کو ذمہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ پولیس حکام کے خلاف ادارہ جاتی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈی آر او اور آر او کو نااہل قرار دیا گیا۔ ڈی آر او اور آر او انتظامی طورپر کمزور نظر آئے۔ سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کا نام بھی رپورٹ میں شامل ہے۔ 20 پولنگ سٹیشنز پر پولیس افسران انتخابی عمل کی خرابی کےمرتکب قرار دیئے گئے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس حکام نے متعدد پولنگ اسٹیشنز کےنتائج بدلے۔ اسسٹنٹ ریٹرننگ افسرکی کالز کا ڈیٹا بھی انکوائری رپورٹ کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: این اے 75 ضمنی الیکشن: تحریک انصاف کو شکست، ن لیگ نے میدان مار لیا

یاد رہے کہ این اے 75 میں 2018ء کے الیکشن کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سیّد افتخار الحسن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی کو شکست دی تھی۔ یہ سیٹ سیّد افتخار الحسن کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔

خالی ہونے والی سیٹ پر الیکشن کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے سیّد افتخار الحسن کی بیٹی سیّدہ نوشین افتخار کو میدان میں اُتارا تھا جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی تھے۔ الیکشن کے رزلٹ آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ سٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا تھا۔

ای سی پی کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ این اے 75 سیالکوٹ کے نتائج غیرضروری تاخیر سے موصول ہوئے اور اس دوران متعدد مرتبہ پریزائڈنگ افسران سے رابطے کی کوشش بھی کی گئی مگر رابطہ نہ ہوسکا۔ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسر حلقہ این اے 75 نے آگاہ کیا کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے، لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقے کا غیرحتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں۔

اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں گیا جہاں پر عدالت عظمیٰ نے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے این اے 75 میں مکمل الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا ۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ ن کی سیّدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی کو ہرا دیا تھا۔ فاتح امیدوار نے ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد جبکہ رنر اپ امیدوار نے 93 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔