تازہ ترین
  • بریکنگ :- حکومت کی عوام دوستی کاجذبہ ان کی ترجیحات سےظاہرہوتاہے،عمرسرفرازچیمہ
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت مزید 86تحصیلوں میں ریسکیوسروس شروع کررہی ہے،مشیراطلاعات
  • بریکنگ :- 27 اضلاع میں ریسکیوبائیک سروس شروع کررہےہیں،عمرسرفرازچیمہ
  • بریکنگ :- اسپتالوں کی اپ گریڈیشن،مفت ادویات سےغریبوں نےسکھ کاسانس لیا،عمرسرفراز
  • بریکنگ :- وزیرآبادانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بستروں کی تعداد 100 سےبڑھائی جارہی ہے،عمرسرفراز
  • بریکنگ :- لاہور:وفاقی حکومت نےمہنگائی کاپہاڑکھڑاکیا،عمرسرفرازچیمہ
  • بریکنگ :- پنجاب حکومت عوام کوریلیف دینےکیلئےاقدامات کررہی ہے،عمرسرفرازچیمہ

پیسے تقسیم کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کی نا اہلی، بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواست دائر

Published On 18 December,2021 07:00 pm

گوادر: (دنیا نیوز) گوادر میں دھرنے میں پیسے تقسیم کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان عبد القدوس بزنجو کی نا اہلی کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو گوادر کو حق دو تحریک نے 31 دنوں سے جاری احتجاجی دھرنا وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے مذاکرات کامیاب ہونے پر ختم کردیا تھا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ شرکاء میں پیسے تقسیم کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست میں عدالت سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو نااہل قرار دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

امان اللہ کنرانی کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق فروری 2019 میں اپنے فیصلے میں پیسے کی اس طرح تقسیم کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ آئین کے آرٹیکل پانچ کے تحت آئین کی وفاداری کا حلف لیتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وزیراعلیٰ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پاسداری کا پابند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے گوادر میں دھرنے کے اختتام پر خواتین اور بچوں میں پیسے تقسیم کر کے آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس لیے آئین کے آرٹیکل 5، 63، 189 اور آرٹیکل 204 کے تحت عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کی نشست سے نا اہل قرار دیا جائے۔