تازہ ترین
  • بریکنگ :- بنی گالہ کووزیراعلیٰ کیمپ آفس ڈکلیئرکیےجانے کا امکان
  • بریکنگ :- کیمپ آفس بنانےکیلئےاسلام آبادانتظامیہ کوپیشگی اطلاع کرناضروری ہے،ذرائع
  • بریکنگ :- ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یاچیف کمشنرکواس حوالےسےمطلع کرناہوگا،ذرائع
  • بریکنگ :- تاحال بنی گالہ کووزیراعلیٰ پنجاب کاکیمپ آفس بنانےکی اطلاع نہیں دی گئی،ذرائع
  • بریکنگ :- کیمپ آفس کانوٹیفکیشن ملنےکےبعدسیکیورٹی انتظامات کیےجائیں گے،ذرائع

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج مقرر، نوٹیفکیشن جاری

Published On 21 January,2022 06:46 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج مقررکردیا گیا ہے ، ججز تقرری کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کے بعد صدر مملکت نے منظوری دے دی اور وزارت قانون نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

وفاقی وزارت قانون نے لاہورہائیکورٹ کی جج جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج تعینات کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔ اس سے قبل صدر مملکت نے جسٹس عائشہ ملک کی بطور جج سپریم کورٹ تعیناتی کی منظوری دی تھی ۔

جوڈیشل کمیشن نے کثرت رائے سے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی سفارش کی تھی، وزارت قانون کے نوٹیفیکیشن کے مطابق جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا اطلاق ان کے حلف اٹھانے کے روز سے ہو گا ۔

جسٹس عائشہ ملک 1966 میں لاہور میں پیدا ہوئیں اور امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی ، وہ بینکنگ قوانین کی ماہر وکیل جانی جاتی ہیں جو 2012 میں لاہور ہائی کورٹ کی جج تعینات ہوئی تھیں ، جہاں وہ چوتھی سینئر ترین جج کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔ سنیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود ان کی سپریم کورٹ میں بطور جج تعیناتی پر بار کونسلز کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے اس فیصلے کی مخالفت بھی کی گئی تھی ۔

ان کے 2030 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس تعینات ہونے کے امکانات ہیں جبکہ وہ 65 سال کی عمر کو پہنچ کر حسب ضابطہ 2031 میں ریٹائر ہو جائیں گی ۔