کابل: (دنیا نیوز) افغان طالبان نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کو یقین دہانی کروائی ہے کہ افغان سر زمین کسی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔
قومی سلامتی مشیر معید یوسف افغانستان میں موجود ہیں جہاں پر نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران افغان چیمبر آف کامرس کے اراکین بھی موجود تھے۔
افغان نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان برادر ملک ہیں جن کے تاریخی مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں، پاکستان کے ساتھ باہمی احترام پر مشتمل بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ افغان سرزمین کو کسی ہمسایہ ملک کے خلا ف استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔
اس موقع پر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی حمایت جاری رکھے گا، گہرے معاشی تعلقات کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں ہے، پاکستان علاقائی پراجیکٹس پر عمل درآمد کے لئے پر عز م ہے۔
معید یوسف کی افغان وزیر خارجہ سے نتیجہ خیز ملاقات
Our NSA Moeed Yusuf is in Kabul with an interministerial delegation. Had a productive meeting with Acting FM Mullah Amir Khan Muttaqi to kick off the visit. Will have multiple official meetings to strengthen humanitarian & econ engagement @ForeignOfficePk pic.twitter.com/J5mcOPm1xR
— Mansoor Ahmad Khan (@ambmansoorkhan) January 29, 2022
وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کی افغان وزیر خارجہ عامر خان متقی کی نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے۔
معید یوسف کی زیر قیادت کابل پہنچنے والے وفد میں وزرا بھی شامل ہیں جو افغان حکام سے دو طرفہ تعلقات، مشترکہ مفادات اور افغانستان میں انسانی بحران کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات آگاہ کرے گا۔
افغانستان میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کابل پہنچنے پر پاکستانی وفد کا استقبال افغانستان کے قائم مقام وزیر تجارت و صنعت نور الدین عزیزی نے کیا جبکہ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق بھی موجود تھے۔
پاکستانی سفیر کے مطابق دورے کے سلسلے میں معید یوسف کی افغان وزیر خارجہ عامر خان متقی سے نتیجہ خیز ملاقات ہوئی جبکہ مشیر برائے قومی سلامتی انسانی و اقتصادی تعلقات میں مضبوطی اور پاکستان کے اقدامات کے حوالے سے مختلف شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستانی وفد کو دو روزہ دورہ افغانستان کے لیے 18 جنوری کو کابل پہنچنا تھا البتہ موسم کی خرابی اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر اس دورے کو ملتوی کیا گیا۔