تازہ ترین
  • بریکنگ :- کورونا کے باعث 24گھنٹے کےدوران ایک مریض دم توڑگیا،این آئی ایچ
  • بریکنگ :- 24گھنٹےکےدوران 11ہزار388ٹیسٹ کیے گئے،353کیسز رپورٹ،این آئی ایچ
  • بریکنگ :- 155مریضوں کی حالت تشویشناک،مثبت کیسز کی شرح 3.10فیصد ریکارڈ

معیشت کی بحالی بہت بڑا چیلنج، عمران خان سے نجات مقام شکر ہے: نواز شریف

Published On 21 April,2022 07:32 pm

لندن :(دنیا نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو کی پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں چیئرمین سینیٹ اور گورنر پنجاب کے عہدوں کے حوالے سے مشاورت کی گئی، سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان سے نجات مقام شکر ہے، معیشت کی بحالی بہت بڑا چیلنج، پاکستان کو دوبارہ ترقی کی راہ پر لائیں گے۔

لندن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ عمران خان سے قوم کو نجات دلانا بہت ضروری تھا، عمران خان نے غنڈہ گردی اور بدتمیزی کے کلچر کو فروغ دیا، پاکستان میں اکانومی تباہ ہوگئی ہے، اکانومی کو بہتر کرنے میں بہت وقت لگے گا۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ عمران خان نے جو ماحول پیدا کیا ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا تھا، شکرادا کرنا چاہیے عمران خان سے نجات ملی، پاکستان کو دوبارہ منزل پر لائیں گے، ہماری حکومت میں پاکستان ترقی کر رہا تھا، اسحاق ڈار نے پاکستان کی اکانومی کو مضبوط کیا تھا، ہماری حکومت میں پاکستان ترقی کر رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا اکانومی کو ٹھیک کرنا بہت بڑا چیلنج ہے، پاکستان کو اس بھنور سے نکالنا ہے، معیشت کی بحالی اولین چیلنج ہے، بہت بڑے چیلنج سے نمٹنا ہے، پونے چار سال سیاہ ترین دور تھا، ہر چیز پر یوٹرن لیا گیا، یہ شخص جگہ، جگہ جا کر بھیک مانگتا رہا، کہتا تھا آئی ایم ایف گیا تو خود کشی کرلوں گا، ہم نے تو آپ کو خودکشی کرتے نہیں دیکھا، پاکستان اس لیے نہیں بنایا گیا تھا اس کا یہ حشر کردیا جائے۔

نواز شریف نے کہا کہ تمام اتحادیوں کو مسائل حل کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، اللہ نے مجھے ملک کا تین دفعہ وزیراعظم بنایا، اب ملک کو اپنی منزل کی طرف پہنچانے کے لیے کردارادا کریں گے، قوم ہماری کامیابی کے لیے دعا کرے، بلاول بھٹو کا آمد پر شکریہ ادا کرتا ہوں، بلاول بھٹو نے مجھے مبارکباد دی، بلاول سے کل پھر ملاقات ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف اور (ن) لیگ کے ساتھیوں کا شکر گزار ہوں، لندن آفس پہلی دفعہ آیا ہوں، ہم نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے، ہم نے تاریخی کام کرکے دکھایا ہے، ہم نے سلیکٹڈ راج کو دفن کیا یہ تاریخی کام ہے، ایک غیر جمہوری شخص کو مسلط کیا گیا تھا، ہم نے عدالت سمیت کسی اداروں کو اس کام میں ملوث نہیں کیا، ہم نے پارلیمان میں غیر جمہوری شخص کو شکست دی۔

قبل ازیں نواز شریف سے ملاقات کے لئے بلاول بھٹو زرداری حسن نواز کے دفتر پہنچے، حسن اور حسین نواز نے باہر آکر استقبال کیا جبکہ سابق وزیراعظم نے چیئرمین پی پی پی کو خوش آمدید کہا۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میاں نواز شریف کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے نتیجے میں سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے، وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی۔

ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور میاں نواز شریف نے قومی سیاسی معاملات میں افہام و تفہیم اور اتفاق رائے سے ساتھ چلنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

ملاقات میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بیرونی سازش نہیں جمہوری سازش تھی، ہم جمہوری طریقے سے عدم اعتماد لے کر آئے، عمران خان کا بیانیہ ہے کہ مجھے کیوں نہیں بچایا، پاکستان کا کوئی شہری نہیں جو چاہتا ہوں ادارے اپنے دائرے سے باہر آکر کام کریں، پاکستان کی ترقی کیلئے جو کام پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے گا وہ کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کا جمہوریت کیلئے کردار بے مثال ہے، چارٹر آف ڈیمو کریسی کے تحت پاکستان ایک صحیح سمت میں چل رہا تھا، میاں صاحب سے بہت ضروری ملاقات ہے، ہم نے ایک بار پھر پاکستان کو جمہوریت کی بحالی کی طرف لے کر جانا ہے۔

نواز شریف سے ملاقات سے قبل پیپلز پارٹی کا اہم اجلاس ہوا، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمٰن، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ کے درمیان اہم مشاورت ہوئی۔

بلاول بھٹو کی ہوٹل میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے بھی ملاقات ہوئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کہہ رہا ہے مجھے کیوں نہیں بچایا، شہید بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے تعلق سے پاکستان میں جمہوریت بحال ہوئی، اسی ورکنگ ریلیشن شپ کی بدولت اٹھارویں ترمیم ممکن ہوئی، عوامی حقوق کے جو کام 10سال میں ہوئے کبھی نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی سمیت مختلف چیلنجز ہیں، ہمیں مل کر مسائل حل کرنا ہیں، پاکستان کو ہم نے جمہوریت کی بحالی کی طرف لے کر جانا ہے، 2007 سے قبل بھی ہمارے تمام ادارے متنازع بن چکے تھے۔