تازہ ترین
  • بریکنگ :- شاندانہ گلزارخان،روحیلہ حامد،مہوش علی نےکاغذات نامزدگی جمع کرائے
  • بریکنگ :- تمام 9 حلقوں میں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کرانےکاعمل مکمل
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن شیڈول کےمطابق 9حلقوں میں انتخاب 25 ستمبرکوہوگا
  • بریکنگ :- عمران خان کےقومی اسمبلی کے 9 حلقوں سےکاغذات نامزدگی جمع
  • بریکنگ :- عمران خان بیک وقت مردان،چارسدہ،پشاور،کرم،فیصل آبادسےالیکشن لڑیں گے
  • بریکنگ :- عمران خان ننکانہ، ملیر، کورنگی اورکراچی ساؤتھ سے بھی انتخاب لڑیں گے
  • بریکنگ :- این اے 22، 24، 31اوراین اے 45 سےعمران خان کےکاغذات نامزدگی جمع
  • بریکنگ :- این اے 108، 118، 237، این اے 239 اور 246 سے بھی کاغذات جمع
  • بریکنگ :- خیبرپختونخوامیں خواتین کی مخصوص نشست کیلئےبھی کاغذات جمع

قبل از وقت انتخابات کی رکاوٹیں ختم، اسمبلیوں کی حتمی حلقہ بندیاں جاری

Published On 05 August,2022 11:07 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد کی رکاوٹیں ختم ہو گئیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نئی حتمی حلقہ بندیاں جاری کر دیں۔

آئندہ عام انتخابات سے متعلق بڑی خبر ہے، قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد کی تمام قانونی رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ انتخابی حلقہ /ضلع کی حتمی حلقہ بندی کی کاپی حسب ضابطہ الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد سے لی جا سکتی ہے۔ حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان 11اپریل 2022 کو کیا گیا تھا۔ یکم جون سے 30جون تک الیکشن کمیشن نے ابتدائی حلقہ بندیوں پر عوام کے اعتراضات اور تجاویز وصول کیں۔الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں پر 910 اعتراضات موصول ہوئے۔ اعتراضات کو الیکشن کمیشن میں یکم جولائی 2022 سے 30 جولائی 2022 تک سماعت کے بعد نمٹایا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ الیکشن میں قومی اسمبلی کی 266 جنرل نشستیں بنائی گئی ہیں، چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 593 جنرل نشستیں بنائی گئیں ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 859 جنرل نشستوں کے حلقے بنائے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں پنجاب کی 141، سندھ کی 61، بلوچستان کی 16 سیٹیں رکھی گئی ہیں، خیبرپختونخوا کی 45 اور اسلام آباد کی 3 سیٹیں رکھی گئیں ہیں، نئی حلقہ بندیوں کے زریعے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں کم کر دی گئیں۔ 25 ویں آئینی ترامیم کے بعد قومی اسمبلی کی 6 نشستیں کم کر دی گئیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی 51، خیبر پختونخوا اسمبلی کی 115 جنرل نشستیں رکھی گئی ہیں، پنجاب اسمبلی کی 297، سندھ اسمبلی کی 130 سییٹں بنائی گئی ہیں۔

حلقہ بندیاں چھٹی مردم شماری کے نتائج کے تحت کی گئیں، پہلا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 1 چترال کو برقرار رکھا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت کے قومی اسمبلی کے حلقے کا آغاز این اے 46 سے ہو گا، 231 حلقوں کے نمبر تبدیل کر دئے گئے، پنجاب سے قومی اسمبلی کے حلقوں کا آغاز این اے 49 اٹک سے ہو گا، سندھ سے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 190 جیکب آباد سے شروع ہو گا، بلوچستان سے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 251 شیرانی سے شروع ہو گا۔